باہمی تنازعات،اسلامی نیٹو نہیں بن سکتا،ترکیہ بڑی گیم کررہا
سعودیہ اسرائیل اور امریکا سے دور ،یواے ای قریب ،ترکیہ پاور دکھانا چاہتا پاکستان کا کو ئی معاہدہ ہوجاتا ہے تو بہت اچھا ،’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہم یہ چاہیں گے اگر ہمارے اوپر انڈیا حملہ کرے تو سعودی عرب، ترکیہ سمیت سب ہماری مدد کریں،ایشو یہ ہے کہ جو مشرق وسطیٰ کے ممالک ہیں ان کے آپس میں کافی ایشوز ہیں،مثلا ًامارات ، سعودی عرب ،یمن اور سعودی عرب، سوڈان، صومالی لینڈ تنازع،پاکستان کا جو دفاعی معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ ہوا ہے ،ویسا کسی اورملک کے ساتھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا،ملٹری معاہدہ ہوسکتا ہے ،پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی، ایئر فورس اور جے ایف 17 تھنڈرکا استعمال کرکے بھارت کو شکست دی، وہ ممالک اسی میں دلچسپی رکھتے ہیں،اب باتیں یہی آرہی ہیں کہ آذر بائیجان ،لیبیا کے ساتھ جے ایف 17 تھنڈر کی ڈیل ہونے والی ہے، کوئی کہہ رہا ہے کہ سعودی عرب سے بھی بات چل رہی ہے ،یہ بات قابل تحسین ہے کہ پہلی بار اتنے آرڈر مل رہے ہیں، تر کیہ بھی کہہ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ کوئی معاہدہ کرلیں، ہم بھی ترکیہ سے ڈرون خریدتے ہیں،کچھ ہم خود بنارہے ہیں،ترکیہ کہہ رہا ہے معاہدہ کرلو کہ کچھ ہم لے لیتے ہیں کچھ تم ہم سے لے لو،یہ باتیں بھی چل رہی ہیں،جب کوئی چیز فائنل ہوگی تو اس کے کئی مراحل ہوں گے ، پہلی سٹیج پر اتنا پیسہ آئے گا،پھر یہ سپلائی ہوگی تو اس کا اتنا پیسہ آئے ،اگر ایسا کو ئی معاہدہ ہوجاتا ہے تو بہت اچھا ہے۔
ترکیہ بھی انٹرنیشنل پلیئر بننا چاہتا ہے ، خصوصاًاسلامی ممالک میں، جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت ہورہی تھی تو ترکیہ نے مذاکرات کیلئے جگہ بنائی تھی،استنبول میں انتظام کیا تھا،یمن کے حوالے سے یواے ای اور سعودیہ کے درمیان ایشو ہوا ہے ،سعودیہ اسرائیل اور امریکا سے دور ہورہا ہے اور یواے ای اسرائیل،امریکا کے قریب ہوگیا، سعودیہ کو امریکا اور اسرائیل پر اعتماد نہیں ہے ،پاک سعودیہ جو معاہدہ ہوا ہے ترکیہ بھی اس کا حصہ بننا چاہتاہے ،اگر ترکیہ سے یہ معاہدہ ہوتا ہے تو سعودیہ کو کوئی ایشو نہیں ہوگا،اس میں سعودیہ کا بھی فائدہ ہے ،میرا خیال یہ ہے کہ اسلامی نیٹو نہیں بن سکتا ،ان ممالک کے جو انٹرسٹ ہیں وہ ابھی بھی امریکا کے ساتھ ہیں،کیونکہ تیل کا مسئلہ ہے ،اس سے ہٹ کر ترکیہ ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے ،یہاں تک امریکا بھی اس کو پسند نہیں کرتا، مگر ترکیہ نیٹو کا ممبر ہے ،اس معاملے پر ترکیہ بڑی گیم کررہا ہے ، ترکیہ اپنی پاور کا اظہار کرنا چاہتا ہے ، اس کو پتا ہے کہ نیٹو کے اندراس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ،یہ بھی بات ہے کہ نیٹو کی اہمیت بھی ختم ہوتی جارہی ہے ،اس لئے اردوان سعودیہ اورپاکستان کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔