بورڈ آف پیس میں شمولیت:پاکستان نے ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی

بورڈ آف پیس میں شمولیت:پاکستان نے ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی

پاکستان سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کا حامی ،امیدہے مستقل جنگ بندی ، خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو گی، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا:دفترخارجہ اسحاق ڈار کی ایکس پیغام میں تصدیق ، آذربائیجان ،بحرین اور اسرائیل بھی بورڈ کا حصہ،ناروے کا انکار،بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب آج ڈیووس میں صدر ٹرمپ کی زیرصدار ت ہوگی

اسلام آباد (وقائع نگار،نمائندہ دنیا،نیوزایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان، سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ اور قطر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کیلئے قائم کئے گئے ’’بورڈ آف پیس‘‘میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کر دیا اور اس حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے ۔ آذربائیجان ،بحرین اور اسرائیل نے بھی بورڈ آف پیش میں شمولیت پررضامندی کا اظہار کردیا جبکہ ناروے نے اس دعوت کو رد کردیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی جسے قبول کرلیاگیاہے ۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ کی حمایت جاری رکھے گا۔پاکستان نے کہا ہے کہ امید کرتے ہیں کہ اس فریم ورک کے قیام کے نتیجے میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کا نفاذ ممکن ہو سکے گا،پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ فلسطینی عوام کیلئے انسانی امداد میں نمایاں اضافہ کیا جانا چاہئے ۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کو امید ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے ، جو خطے میں دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے ۔

پاکستان نے اعلان کرتے ہوئے فلسطینی کاز کے عزم کا اعادہ بھی جاری رکھا اور اپنے موقف پر قائم رہا۔ دفتر خارجہ سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ امید ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کا ذریعہ بنیں گی اور ان اقدامات کے نتیجے میں 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو گی، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔ پاکستان بطور رکن بورڈ آف پیس ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا اور فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی تکالیف کے خاتمے کیلئے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ غزہ میں امن کیلئے عالمی کوششوں کا حصہ بننا خطے میں پائیدار استحکام کیلئے ناگزیر ہے اور پاکستان اس مقصد کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا۔ پاکستان نے یہ بھی کہا کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی راہ ہموار کریں گی جو ایک معتبر اور وقت کے پابند سیاسی عمل کے ذریعے عمل میں آئے ، جو بین الاقوامی قانونی حیثیت اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو۔ آٹھ ممالک پاکستان، سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ اور قطر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ امریکی صدر کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہیں اور بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے پر متفق ہیں۔

ہر ملک اپنی متعلقہ قانونی اور آئینی تقاضوں کے مطابق شمولیتی دستاویزات پر دستخط کرے گا جبکہ مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی اس میں شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں۔مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ ممالک صدر ٹرمپ کی قیادت میں جاری امن کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور غزہ تنازع کے خاتمے کیلئے تیار کردہ جامع منصوبے کے تحت بورڈ آف پیس کے مشن پر عملدرآمد میں بھرپور تعاون کیلئے پرعزم ہیں۔دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 30 کے قریب ممالک اس پیس بورڈ میں شمولیت اختیار کرینگے جبکہ دعوت پچاس سے زائد ممالک کو دی گئی ہے ۔کچھ یورپی ممالک جن میں فرانس ،ناروے اور سویڈن شامل ہیں انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس میں شمولیت اختیار نہیں کرینگے ، چین، روس، برطانیہ اور جرمنی سمیت دیگربڑے ممالک نے ابھی تک اس پر کوئی رائے نہیں دی ہے ۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 جنوری کو اپنی سربراہی میں غزہ بورڈ آف پیس کا اعلان کیا تھا، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیراڈ کوشنر، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور دیگر افراد کو شامل کیا گیا ہے ۔

غزہ میں بورڈ آف پیس کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے ، یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور حکومت میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان نے یہ فیصلہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت کیا ہے ،پاکستان نے مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، اور غزہ کی تعمیرِ نو کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ اسحاق ڈار نے لکھا کہ پاکستان نے ایک منصفانہ اور مقررہ مدت پر مبنی عمل کے ذریعے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے ، مجوزہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی ۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت قبول کر لی ہے ۔ ترکیہ بھی ٹرمپ کی دعوت پر بورڈ آف پیس میں شامل ہونے پر آمادہ ہوگیا ،ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان بورڈ آف پیس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی نمائندگی کریں گے ۔ ترک صدر طیب رجب اردوان نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ہاکان فیدان اس بورڈ میں شامل ہوں گے ۔ مراکش اورمتحدہ عرب امارات کے بعد خلیجی ملک بحرین نے بھی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کرلی۔بحرینی وزارت خارجہ کے مطابق شاہِ بحرین حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے ٹرمپ کی دعوت کو قبول کر لیا ہے ۔

مملکتِ بحرین کا یہ فیصلہ غزہ کیلئے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے ، کیونکہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کیلئے نہایت اہم ہے ، امید ہے بورڈ آف پیس اپنے مقاصد حاصل کرے گا ۔مصر کی وزارت خارجہ نے بھی گزشتہ روز اعلان کیا کہ صدر عبد الفتاح السیسی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے ، مصر قانونی اور آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔ آذربائیجان بھی بورڈ آف پیس کا حصہ بن گیا۔یورپی ملک ناروے نے دعوت کو رد کرتے ہوئے وہ ٹرمپ کے زیر قیادت بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہوگا۔ ریاستی سیکرٹری کرسٹوفر تھونر نے کہا کہ امریکی تجویز کئی سوالات پیدا کرتی ہے جن پر مزید بات چیت ضروری ہے ، ناروے ڈیووس میں کسی دستخطی تقریب میں شرکت نہیں کرے گا تاہم امریکا کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب آج سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہوگی۔امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی اسٹیوو وٹکوف کے مطابق اب تک 20 سے 25 عالمی رہنما بورڈ آف پیس میں شامل ہوچکے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں