وزیراعلیٰ مریم نواز کا ٹیلی میڈیسن سسٹم متعارف کرانے کا اعلان
جھنگ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کارڈیک سرجری شروع ، ہر قسم کے علاج کی سہولت گھر کی دہلیز پر دینگے :مریم نواز بلاتفریق عوام کے دکھ درد میں ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے :کیتھ لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب
لاہور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازنے پنجاب میں ٹیلی میڈیسن سسٹم متعارف کرانے اورجھنگ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کارڈیک سرجری شروع کرانے اور نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کی مارچ سے تعمیر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے جھنگ میں کیتھ لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام کو ہر قسم کے علاج کی سہولت گھر کی دہلیز پر دیں گے ۔اب غریب امیر کا ایک ہی جیسا علاج ہوگا۔ میرے ذہن میں کوئی تفریق نہیں۔ غربت اور وسائل کی کمی کے شکار افراد کے لئے ہارٹ اٹیک کسی قیامت سے کم نہیں۔مشکل کی گھڑی میں مریض کو شفٹ کرنے کے لئے گاڑیوں کے کرائے بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ان کا کہنا تھا ہارٹ اٹیک ہونے پر 60منٹ کے گولڈن آور میں مریض کو ہسپتال شفٹ کرنے سے جان بچائی جاسکتی ہے ۔ مریم نواز نے جھنگ کی کیتھ لیب میں مریض کے پروسیجر کامشاہدہ کیا۔
انہوں نے کہاکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں لوگوں نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک ہونے پر مریض لاہور لیجانے کی بجائے جھنگ ہسپتال میں لائے ہیں۔ مریض کو فیصل آباد کارڈیالوجی میں 8 ماہ بعد کی تاریخ ملی، جھنگ میں 48 گھنٹے میں پروسیجر مکمل ہوگیا،انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے سختی برتنا پڑتی ہے لیکن یہ سختی ذمہ داری کے بوجھ پر کی جاتی ہے ۔ہم عوام کے دکھ درد میں ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے ۔نواز شریف نے کہاکہ جب بھی نیا ہسپتال ڈیزائن کرتے ہیں، دوسرے صوبوں کے مریضوں کی ضرورتوں کو بھی مد نظر رکھتے ہیں۔ لاہور میں 100بیڈ کا پہلا سرکاری کینسر ہسپتال پنجاب کے علاوہ دوسر ے صوبوں کے مریضوں کی ضرورتوں کو بھی مد نظر رکھ کر بنایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہارٹ اٹیک ہونے پر کچھ مریض انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی سے صحت یاب ہوتے اور کچھ کو سرجری کی ضرورت بھی پڑتی ہے ۔ جھنگ کیتھ لیب کی فارمیسی میں درکار ضروری اشیا اور ادویات کے انبار لگے ہیں۔
جھنگ میں الیکٹرک بس کو عوام نے بہت پذیرائی دی، ہزاروں افراد روزانہ سفر کرتے ہیں۔پہلے واسا چند شہروں تک تھا اب جھنگ سمیت درجنوں شہروں میں موجود ہے ، پنجاب بھر میں گلی محلے اور گاؤں صاف کررہے ہیں، جھنگ کیمرہ مانیٹرنگ سیف سٹی بن چکا ہے ۔جھنگ میں دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بیوٹیفکیشن کے چار پراجیکٹ جلد مکمل کرائیں گے ۔ پنجاب میں اب صفائی گھر کی دہلیز تک ہوتی ہے ، دروازہ کھٹکھٹا کر کوڑا اکٹھا کیا جاتا ہے ۔ مریضوں کے لئے ہوم ڈلیوری میڈیسن اور بھی بڑھائیں گے ۔ ڈائیلسز کارڈ کے ذریعے ہر مریض 10لاکھ تک علاج کراسکتا ہے ۔نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ میں چلڈرن ہسپتال، کارڈیالوجی، بلڈ ڈیزیز، ہڈیوں کے پیچیدہ امراض اور جلنے والے مریضوں کابھی علاج ہوگا۔نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ جینٹک،مو ذی امراض کا بھی علاج ہوگا۔ میں سمجھتی ہوں جو مریض کے علاج میں غفلت کرتے ہیں انہیں حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دریائے فرات کے کنارے کتا پیاسا مر جائے تو حضرت عمرؓ ذمہ دار ہیں تو سی ایم کیسے ذمہ دار نہیں ہوسکتاہے ۔ گٹر کا ڈھکن نہ ہونے سے مرنے والوں کا ذمہ دار کون ہے ؟۔