بورڈ میں شمولیت سے پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوا

 بورڈ میں شمولیت سے پاکستان  کی ساکھ میں اضافہ ہوا

(تجزیہ:سلمان غنی) پاکستان کی جانب سے غزہ میں امن کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرنا فلسطین میں امن، فلسطینیوں کو درپیش مشکلات کے ازالے اور مسئلۂ فلسطین سے پاکستان کی کمٹمنٹ کا واضح ثبوت ہے ۔

 بورڈ آف پیس کی رکنیت کی دعوت قبول کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے اس اصولی مؤقف کا اعادہ بھی کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کا حامی ہے اور خصوصاً 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا خواہاں ہے ۔پاکستان نے بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم سے فلسطینی عوام کے دکھ درد کے خاتمے کے لیے اچھی توقعات ظاہر کی ہیں۔ لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ آیا بورڈ آف پیس فلسطین میں امن و استحکام اور خود فلسطینیوں کی زندگی میں اطمینان کا باعث بن سکے گا؟ صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو بورڈ میں شرکت کی دعوت کو پاکستان نے مثبت قرار دیتے ہوئے باضابطہ طور پر اس کا حصہ بننے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ، سفارتی وزن اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ، اور اب دنیا پاکستان کو اس ایشو پر ایک سنجیدہ نظر اور مسئلے کے حل کی طرف لے جانے والے فریق کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی فلسطین کاز سے کمٹمنٹ صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ حقِ خودارادیت، شہریوں کے تحفظ، فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد اور تعمیرِ نو کی عملی حمایت پر مبنی ہے ۔

اب بورڈ آف پیس کی رکنیت پاکستان کے لیے عملی اقدامات کی جانب پیش رفت کے حوالے سے نہایت اہم ہوگی، اور ان فیصلوں میں پاکستان کی حیثیت واضح ہو گی جو براہِ راست فلسطینیوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوں گے ۔اطلاعات کے مطابق ایک حاضر سروس امریکی جنرل کو انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے ، جس کا مقصد غزہ کی سلامتی کی نگرانی اور اسلحہ جمع کرانا بتایا جا رہا ہے ۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ فلسطینی کمیٹی کو غزہ کے معاملات چلانے میں کتنی آزادی حاصل ہو گی۔یہ خدشات موجود ہیں کہ نوآبادیاتی طرز پر بیرونی طاقتوں کے زیرِ اثر بورڈ آف پیس کس حد تک آزاد اور مؤثر فیصلے کر پائے گا، جبکہ بورڈ میں فلسطینی نمائندوں کی عدم موجودگی کے باعث فلسطینی رائے نہ ہونے کے برابر ہو گی اور زیادہ تر توجہ اسرائیلی مفادات پر مرکوز رہنے کا اندیشہ ہے ۔اس حوالے سے ایک واضح روڈ میپ ضروری ہے جو صہیونی قبضے کے خاتمے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف لے جائے ۔

جہاں تک یہ سوال ہے کہ آیا پاکستان اس بورڈ میں کوئی بڑا کردار ادا کر پائے گا، تو وزیرِ اعظم شہباز شریف کے لیے اس کی رکنیت اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور مؤثر آواز ہے ، جس کے بغیر کسی بھی علاقائی امن منصوبے کو اخلاقی اور سیاسی ساکھ حاصل نہیں ہو سکتی۔غزہ کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو جنگ بندی کے باوجود یہ خطہ اب بھی بدترین انسانی المیے سے دوچار ہے ۔یہ حقیقت اب مسلمہ ہے کہ غزہ کا تنازع محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے ۔ غزہ امن بورڈ کا تجربہ اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوگا جب اس کی بنیاد انصاف پر ہو۔ پاکستان کو اس عمل میں نہ صرف فلسطینیوں کا وکیل بننا ہے بلکہ بورڈ کے دیگر اراکین، خصوصاً مسلم ممالک کی قیادت کو ساتھ لے کر ایسی حکمتِ عملی اپنانا ہے کہ عالمی طاقتیں فلسطینی مسئلے میں فریق بننے کے بجائے معاون بنیں اور اسے جنگی نہیں بلکہ انسانی مسئلہ سمجھ کر حل کریں۔بورڈ میں پاکستان اور ترکیہ کی موجودگی حماس کو یہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ مسلم ممالک کی قیادت پر اعتماد کریں اور امن کے قیام میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں