سپر ٹیکس کا نفاذ درست قرار:پارلیمان کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار ہے:آئینی عدالت

سپر ٹیکس کا نفاذ  درست قرار:پارلیمان کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار ہے:آئینی عدالت

مضاربہ،میوچل اوربینوولنٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا،مختلف سیکٹرز کو قانونی رعایتیں برقرار،آئل اینڈ گیس سیکٹر انفرادی رعایت کیلئے ٹیکس کمشنر سے رجوع کرے چیف جسٹس امین الدین ، جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین کا فیصلہ، 2015اور 2022کی تمام درخواستیں مسترد، آئینی عدالت کا 17 سماعتوں کے بعد فیصلہ

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر،دنیا نیوز)وفاقی آئینی عدالت نے سپرٹیکس کانفاذ درست قراردیتے ہوئے کیس کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات مسترد کردئیے اور کہا پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار ہے ، آئل اینڈ گیس سیکٹر انفرادی طور پر رعایت کے حصول کیلئے متعلقہ ٹیکس کمشنر سے رجوع کرے ،عدالت نے 2015 اور 2022کی تمام درخواستیں مسترد کردیں ،سپرٹیکس درست قرار پانے سے حکومت کو تقریباً 310 ارب روپے ملیں گے ۔مضاربہ، میوچل فنڈز اور بینوولنٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔مختلف سیکٹرز کو الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے کی جبکہ چیف جسٹس امین الدین خان نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ فیصلے میں عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4 بی کو آئینی اور درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔تاہم عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق ہائیکورٹس کے بعض فیصلوں کو جزوی طور پر کالعدم بھی قرار دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ سپر ٹیکس پہلی مرتبہ 2015 میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔جس کے تحت 30کروڑ روپے سے زیادہ سالانہ منافع کمانے والوں پر 3 سے 4 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا گیا۔تمام ہائیکورٹس نے اس نفاذ کو درست قرار دیا تھا۔

عدالت نے فیصلے میں یہ بھی ہدایت کی کہ آئل اینڈ گیس سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ادارے کسی بھی انفرادی رعایت کے حصول کے لیے متعلقہ ٹیکس کمشنر سے رجوع کر سکتے ہیں۔سپرٹیکس درست قرار دینے سے حکومت کو تقریباً 310 ارب روپے ملیں گے ۔ مضاربہ،میوچل فنڈز اور بینوولنٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔مختلف سیکٹرز کو الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔2022 میں سپر ٹیکس کا دائرہ بڑھاتے ہوئے 15 کروڑ روپے سالانہ منافع کمانے والوں پر بھی لاگو کیا گیا اور اس کی شرح زیادہ سے زیادہ 10 فیصد تک مقرر کی گئی۔اس اقدام کو مختلف کاروباری شخصیات، بینکوں اور کمپنیوں نے ہائیکورٹس میں چیلنج کیا۔مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپر ٹیکس کا ماضی سے اطلاق دہرے ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے ۔یاد رہے وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس پر 17 سماعتیں کیں۔یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں 2019 میں دائر ہوا تھا اور سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں سنا جاتا رہا۔بعد ازاں 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد کیس آئینی بینچ جبکہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیا گیا۔دوران سماعت ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے حافظ احسان کھوکھر جبکہ کمشنر کراچی کی نمائندگی ڈاکٹر شاہ نواز اور کمشنر لاہور کی جانب سے عاصمہ حامد نے دلائل دئیے ۔مختلف پرائیویٹ کمپنیز کی وکالت کرنیوالے سلمان اکرم راجہ،مخدوم علی خان،فیصل صدیقی ودیگر وکلا عدالت میں پیش ہوتے رہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں