سپرٹیکس سے پونے 4سو ارب روپے وصولی ہوگی،ریونیوشارٹ فال ختم ہونے کا امکان
دسمبر 2025تک بڑی کمپنیوں پر عائد سُپر ٹیکس کی مالیت 340ارب بنتی ، جون 2026تک مزید 40ارب جمع ہو نے کا امکان ،ایف بی آر جولائی تا دسمبر ٹیکس ہدف حاصل نہیں کر سکا تھا سُپر ٹیکس کیس فیصلے کے بعد آئی ایم ایف کا اعتماد بحال ، وزیراعظم کی انفورسمنٹ اقداما ت تیز کرنے ، منی بجٹ نہ لانے ،تنخواہ دار طبقے ،صنعتوں کو ریلیف دینے کیلئے تجاویز تیار کرنے کی ہدایت
اسلام آباد (مدثر علی رانا)رواں مالی سال کے اختتام تک ایف بی آر نے سُپر ٹیکس کی مد میں پونے چار سو ارب روپے وصولی کا تخمینہ لگایا ہے جس میں سے تین سو ارب روپے تک آئندہ چند دنوں میں ریکور کر لیے جائیں گے ۔ ایف بی آر حکام نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دسمبر 2025 تک بڑی کمپنیوں پر عائد سُپر ٹیکس کی مالیت 340 ارب روپے بنتی ہے جبکہ جون 2026 تک مزید 40 ارب روپے جمع ہونے کا امکان ہے ۔ اس طرح دسمبر تک ایف بی آر کا ریونیو شارٹ فال ختم ہونے کے امکانات ہیں۔ایف بی آر لیگل ونگ نے سُپر ٹیکس کیس کی مکمل ورکنگ تیار کی جس میں ممبر لیگل میر بادشاہ وزیر، چیف لیگل حمیدالرحمن اور سیکرٹری لیگل عرفات رسول شامل تھے ۔ سُپر ٹیکس کیس پہلے ہائیکورٹ، پھر اکتوبر 2024 سے سپریم کورٹ اور بعد ازاں کانسٹیٹیوشنل کورٹ میں زیرِ سماعت رہا۔ ایف بی آر نے سُپر ٹیکس فیصلے سے متعلق وزیراعظم اور آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کر دیا ۔ وزیراعظم نے سُپر ٹیکس کیس پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ ایف بی آر حکام نے وزیراعظم اور آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا کہ دسمبر تک سُپر ٹیکس ریکوری سے ریونیو شارٹ فال کلیئر ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ ایف بی آر جولائی سے دسمبر کے دوران ٹیکس ہدف حاصل نہیں کر سکا تھا اور آئی ایم ایف کی جانب سے سُپر ٹیکس کی پینڈنسی کلیئر کرنے کا دباؤ تھا۔سُپر ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے دس فیصد تک ہے ۔
15 سے 20 کروڑ روپے سالانہ منافع کمانے والی کمپنیوں پر ایک فیصد، 25 کروڑ تک 1.5 فیصد، 30 کروڑ تک 2.5 فیصد، 35 کروڑ تک 3.5 فیصد، 40 کروڑ تک 5.5 فیصد، 50 کروڑ تک 7.5 فیصد اور اس سے زائد منافع پر 10 فیصد سُپر ٹیکس عائد ہے ۔ یہ ٹیکس بڑی کمپنیوں، بینکوں اور منافع بخش شعبوں پر لاگو ہوتا ہے ۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4 بی اور 4 سی سُپر ٹیکس سے متعلق ہیں جو فنانس بل میں متعین منافع کی شرح حاصل کرنے والی کمپنیوں پر عائد رہتا ہے ۔دستاویزات کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران ایف بی آر کو 6 ہزار 490 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً 335 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال رہا۔ جولائی سے نومبر تک شارٹ فال 310 ارب روپے سے زائد تھا جبکہ دسمبر میں مزید تقریباً 25 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا۔ دسمبر کے لیے ایف بی آر کا ہدف 1 ہزار 446 ارب روپے تھا۔ جولائی سے دسمبر تک ایف بی آر کی مجموعی آمدن 6 ہزار 155 ارب روپے رہی، جبکہ اس عرصے میں 292 ارب روپے کے ریفنڈز ادا کیے گئے ۔
گزشتہ مالی سال اسی مدت میں 277 ارب روپے کے ریفنڈز دئیے گئے تھے ۔ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی تینوں کی وصولیاں ہدف سے کم رہیں۔حکام کے مطابق سُپر ٹیکس ریکوری سے ایف بی آر کے لیے رواں مالی سال کا نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف 13 ہزار 979 ارب روپے حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ مالی سال 2025-26 کے لیے ابتدائی ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے رکھا گیا تھا جسے آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد کم کیا گیا۔ مالی سال 2024 میں 52 لاکھ جبکہ 2025 میں 70 لاکھ سے زائد انکم ٹیکس ریٹرنز فائل ہوئیں۔دستاویز کے مطابق سُپر ٹیکس ریفارمز کے تحت مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے اگلے چار برسوں میں سُپر ٹیکس کی شرح کم ہو کر 5 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ پرائمری بیلنس سرپلس ہونے پر پانچویں سال سُپر ٹیکس ختم کر دیا جائے گا۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے کم از کم آمدن کا تھریش ہولڈ 20 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے اور 10 فیصد سُپر ٹیکس کے لیے تھریش ہولڈ 50 کروڑ سے بڑھا کر ڈیڑھ ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ایف بی آر کو انفورسمنٹ اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ بجٹ تک کوئی منی بجٹ نہیں لایا جائے گا۔ وزیراعظم کی معاشی ٹیم کو آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں کو ریلیف دینے کے لیے تجاویز تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو بجٹ حکمت عملی سے متعلق ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور اب ریونیو شارٹ فال نئے ٹیکسز کے بجائے ٹیکس آمدن بڑھا کر پورا کیا جائے گا۔