ایران کے نئے سپریم لیڈر،خامنہ ای کی پالیسیوں پر گامزن رہیں گے ؟سعودی عرب کو ٹارگٹ کیا جاتا رہا تو پاکستان کدھر کھڑا ہوگا؟

ایران کے نئے سپریم لیڈر،خامنہ  ای کی پالیسیوں پر گامزن رہیں  گے ؟سعودی عرب کو ٹارگٹ کیا  جاتا رہا تو پاکستان کدھر کھڑا ہوگا؟

(تجزیہ:سلمان غنی) ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے سید مجتبیٰ خامنہ ای کا مجلس خبرگان کے ذریعے بھاری اکثریت سے انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ ایران میں خامنہ ای رجیم کی پالیسیاں جاری ہیں، البتہ نئے ایرانی سپریم لیڈر کو ورثے میں جنگی ماحول اور بڑے چیلنجز درپیش ہیں،56 سالہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا شمار بھی ایران کے سخت گیر اور بھرپور نظریاتی کمٹمنٹ کے حامل علماء میں ہوتا ہے۔

نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے بعد اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ ان کا موجودہ حالات میں لائحہ عمل کیا ہوگا ،کیا وہ جنگی حکمت عملی میں جارحانہ طرز عمل اختیارکریں گے اور اپنے والد کی راہ کو اپنائیں گے ۔نئے سپریم لیڈر کوئی بھی راستہ اختیار کریں لیکن یہ طے ہے کہ ایران ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور اس کے مستقبل کا انحصار صرف جنگی نتائج پر نہیں بلکہ اس بات پر منحصر ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کی ٹیم اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے کیسے نمٹتے ہیں ۔صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو فی الحال ایران پسپائی اختیار کرتا نظر نہیں آ رہا اور وہ جارح امریکا اور اسرائیل کے خلاف ثابت قدم ہے ، البتہ ایران کے اندر تقسیم کے مغرب کے دعوے درست ہوتے نظر نہیں آ رہے ۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی سوچی سمجھی راہ اور علی خامنہ ای کی طے شدہ حکمت عملی پر گامزن ہے ۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب بھی اس کا ثبوت ہے کہ پالیسیز پہلے والی ہیں ، حکمت عملی اور مستقبل کے حالات پر بھی لائحہ عمل طے ہے۔ ایک طرف ایران کو بڑی جارحیت کا سامنا ہے تو دوسری جانب اندرونی طور پر ایران شدید معاشی بحران سے دوچار ہے اور خصوصاً توانائی کے بنیادی ڈھانچہ کو پہنچنے والے نقصان کا مستقبل قریب میں ازالہ ممکن نہیں،البتہ اصل چیلنج جو نئے سپریم لیڈر کو درپیش ہوگا وہ خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ جاری تناؤ ہوگا۔ ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں سے خلیجی ریاستوں کو ٹارگٹ کر کے ایک ہی وقت میں بہت سے محاذ کھول رکھے ہیں اور اس سے اس کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے ،اس کے طرز عمل کے باعث علاقائی اور عالمی محاذ پر کوئی بھی کھل کر اس کے ساتھ کھڑا ہونے کیلئے تیار نہیں ، اسی بنا پر کہا جا رہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کی قیادت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ وہ شدید بیرونی دباؤ، اندرونی خلفشار اور موروثی قیادت کے خدشات سے کس طرح نمٹتے ہیں، البتہ ایران کی جانب سے سعودی عرب میں امریکی تنصیبات پر مسلسل حملے جاری ہیں لیکن یہ سلسلہ اور کھیل عالم اسلام خصوصاً پاکستان کیلئے الارمنگ ہے۔

اس لئے کہ پاکستان اب تک ایران اور خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ غلط فہمیوں کے ازالہ کیلئے سفارتی محاذ پر سرگرم ہے، لیکن اگرایران کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو پاکستان کیلئے اپنے اتحادی کا ساتھ دینا مجبوری ہوگی اور ایران کو چاہئے کہ وہ اس بڑے کھیل کا حصہ نہ بنے جس کا مقصد عالم اسلام میں نفاق پیدا کرنا ہے اور پاسداران انقلاب کو یہ بات سمجھنا ہوگی،خصوصاً ایران کے نئے رہبر کو سمجھنا ہوگااور ایسی حکمت عملی طے کرنا ہوگی جس سے ایران کے حوالے سے عالم اسلام کا سافٹ کارنر جاری رہے ۔بلاشبہ نئے رہبر مزاحمتی تحریک کا حصہ رہے ہیں اور ان کا اپنا گہرا اثرو رسوخ ہے ، آنے والے حالات میں ایران کیلئے شدید مشکلات ہیں اور انہیں مشکلات سے نمٹنے کیلئے بڑے فیصلے کرنا ہوں گے ،انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ ان کا نقصان کم سے کم ہو اور وہ ایران کو کسی بھی انتہائی صورتحال پر لے جانے کی بجائے علاقائی فورسز سے جوڑے رکھیں اور مذاکرات کے آپشن کو نظر انداز نہ کریں۔ خصوصاً پاکستان کی جانب سے شروع کی جانے والی بیک ڈور ڈپلومیسی میں پاکستان سے تعاون کریں، پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے ایران کے خلاف امریکی جارحیت کی مذمت کی اور واضح کیاکہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل کو الجھاتا ہے اور ایران کے خلاف جارحیت کا عمل خطے کو بہت سے خطرات سے دوچار کردے گا لیکن پاکستان نے اس کے ساتھ ایران کے اس طرز عمل کو بھی ٹارگٹ کیا جس کے تحت ایران نے ریاض میں میزائل پھینکے ۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ دفاعی اتحادی کے طور پر ہم اس عمل کی مذمت کرتے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے عربوں سے معذرت کے عمل پر پاسداران انقلاب کی جانب سے آنے والا ردعمل اچھا نہیں تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سید علی خامنہ ای کے بعد مرکزی قیادت نہ ہونے کی وجہ سے ریاستی بیانیہ ایک نہیں رہا۔نئے ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای کوچاہئے کہ وہ مشکل حالات میں جذباتی فیصلوں کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلے کریں۔ ان کیلئے ان کا منصب پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بچھونا ہے ۔عرب لیڈر شپ کا طرز عمل بتا رہا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتے ،خصوصاً سعودی عرب جس نے دوران جنگ بھی بہت مناسب اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے اگر اس پر حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا تو وہ زیادہ دیر تک اس پالیسی پر قائم نہیں رہ پائے گا اور اگر سعودی عرب ردعمل کے طور پر جنگ میں اترتا ہے تو پھر پاکستان کے لئے اپنے اتحادی کے ساتھ کھڑا ہونا اس کی مجبوری بن جائے گا،گیند ایران کے نئے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای کے کورٹ میں ہے کہ وہ کیا طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور کس حد تک معاملات کو کنٹرول کر پاتے ہیں، انہیں کسی پر فیصلے سے قبل یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ وہ دشمن سے نمٹتے ہوئے دوستوں کو بھی خود سے متنفر نہ کر یں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں