ایرانی تیل کے جزیرے پر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا سب سے طاقتور حملہ : ٹرمپ، متحدہ عرب امارات میں بدلہ لیں گے : ایران

ایرانی تیل کے جزیرے پر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا سب سے طاقتور حملہ : ٹرمپ، متحدہ عرب امارات میں بدلہ لیں گے : ایران

خارگ میں فوجی اہداف ختم،چین سمیت کئی ممالک جنگی جہاز بھیجیں گے :امریکی صدر،ملک معمول کے مطابق چل رہا:ایرانی صدر،امریکی کمپنیوں کونشانہ بنائینگے :ایرانی وزیرخارجہ فجیرہ میں سیاہ دھواں،تیل لوڈنگ آپریشن معطل،کویت کے فضائی اڈے ،عراق میں امریکی سفارتخانے ، اماراتی قونصلیٹ پر حملے ،امریکی بینکوں کو نشانہ بنایا:پاسداران انقلاب

واشنگٹن/دبئی/یروشلم (رائٹرز) امریکی مرکزی کمان نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اس کی افواج نے خارگ جزیرے پر 90 سے زیادہ ایرانی فوجی مقامات پر حملہ کیا، جن میں بحری جہازوں کے مائن سٹوریج اور میزائل سٹوریج بنکر شامل ہیں۔تیل کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھا گیا۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے مشرق وسطٰی کی تاریخ کے سب سے طاقتور بم حملوں میں سے ایک کو سر انجام دیا ہے اور ایران کے جزیرہ خارگ پر موجود تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے ۔ اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے جزیرے پر تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ختم نہ کرنے کا انتخاب کیا ہے ، تاہم اگر ایران یا کسی اور نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے آزاد اور محفوظ نقل و حمل میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو میں فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کروں گا۔

انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور ان کے ملک میں جو بچا ہے اسے بچا لیں، جو کہ کچھ زیادہ نہیں ہے۔ خارگ وہ اہم مقام ہے جہاں سے ایران اپنے تیل کی نوے فیصد برآمدات بھیجتا ہے ۔جنوبی صوبہ بوشہر کے نائب گورنر احسان جہانیان نے بتایا کہ حملے کے بعد خارگ جزیرے سے تیل کی برآمدی سرگرمیاں ہفتے کے روز معمول کے مطابق جاری رہیں ، کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کئی ممالک خطے میں جنگی جہاز بھیجیں گے ،ان میں چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک شامل ہیں ۔اس دوران امریکا ساحل پر شدت سے بمباری کرتے ہوئے ایرانی کشتیوں اور جہازوں کو نشانہ بناتا رہے گا۔جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا، کیونکہ خارگ پر حملے متحدہ عرب امارات سے ہوئے ہیں ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ سعودی عرب کے کنگ سلطان ایئر بیس پر پانچ امریکی ٹینکر طیاروں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ متعدد میڈیا ویب سائٹس نے یہ خبر دی تھی کہ ایرانی حملے میں جہاز تباہ ہوئے ہیں، تاہم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ اڈے کو کچھ روز پہلے نشانہ تو بنایا گیا، تاہم جہاز تباہ نہیں ہوئے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ ظالمانہ جنگ کو 15 دن گزر چکے ، دشمن کے حملوں کے باوجود ملک معمول کے مطابق چل رہا ہے ،حکومتی اہلکاروں کی خدمات میں رکاوٹ نہیں آئی، امریکا اور اسرائیل نے ہمارا ملک تباہ کیا، ہم مل کر دوبارہ تعمیر کریں گے ۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک توانائی کی تنصیبات پر کسی بھی حملے کا جواب خطے میں امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنا کر دے گا، اگر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ہماری افواج خطے میں امریکی کمپنیوں یا ان کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گی جن میں امریکا کے حصص ہیں،ہم یقینی طور پر ان حملوں کا جواب دیں گے لیکن احتیاط سے کام لیں گے ، تاکہ گنجان آباد علاقوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

ایران نے خبردار کیا کہ متحدہ عرب امارات کے بعض حصے جائز ہدف ہیں اور شہریوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔صنعت اور تجارتی ذرائع نے ہفتے کے روز بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی ریاست امارت فجیرہ میں تیل کے اہم مرکز اور ٹرمینل سے سیاہ دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دئیے ۔تیل لوڈنگ کے آپریشن معطل کر دئیے گئے ہیں۔ عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر میزائل حملہ کیا گیا۔ اے پی کے مطابق میزائل حملے میں سفارتخانے کے کمپاؤنڈ میں بنے ہوئے ہیلی پیڈ کو نشانہ بنایا گیا ۔ادھر عراق کے کردستان علاقے میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کو ایک ہفتے کے دوران دوسری بار نشانہ بنایاگیا ، جس کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے اور قونصل خانے کی عمارت کو نقصان پہنچا۔

امریکا نے ایرانی حملوں سے خبر دار کر تے ہوئے عمان میں اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو نکلنے کی ہدایت کر دی ہے ۔امریکا مزید فوجی اور بحری جہاز مشرق وسطٰی بھیج رہا ہے ۔ وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا کہ جاپان میں موجود یو ایس ایس ٹریپولی اور اس کے ساتھ منسلک میرینز علاقے کی جانب روانہ ہیں، جبکہ نیویارک ٹائمز کی ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 2500 میرینز تین بحری جہازوں پر سوار مشرق وسطٰی کے لیے جا رہے ہیں۔کویت کی وزارت دفاع نے کہا کہ احمد الجابر ایئر بیس کو دو ڈرونز نے نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں،حملے سے کویتی مسلح افواج کے 3ارکان معمولی زخمی ہوئے اور اڈے کونقصان پہنچا ہے ۔پاسداران انقلاب کا کہناہے کہ ایرانی بینکوں پر حملوں کے جواب میں امریکی بینکوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں