2ہفتے کی جنگ بندی،امریکا اور ایران حملے روکنے پر تیار:ٹرمپ نے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بات مان لی
ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کا پہلا راؤنڈ 10اپریل کو اسلام آباد میں ہوگا،امریکی اخبار ، اسرائیل بھی عارضی جنگ بندی پرتیار،سی این این، سعودی عرب نے تحمل ،دانشمندی کا مظاہرہ کیا ،سفارتی حل کی راہ ہموار ہوئی ،کور کمانڈرز ایران کا کویت کی ایئر بیس پر ڈرون حملہ، 15 امریکی زخمی ،امریکا اور اسرائیل کے ایران کے جزیرے خارگ، ریلوے تنصیبات اور پلوں پر فضائی حملے ،مشہد کیلئے تمام ٹرینیں منسوخ ،کرج اور فردیس میں بجلی سپلائی منقطع
اسلام آباد،واشنگٹن (نامہ نگار،وقائع نگار،نیوز ایجنسیاں) پاکستان کو بڑی سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جنگ بندی کی بات مان لی اور ایران کے خلاف تباہ کن حملے دوہفتے کے لیے موخر کر دئیے جبکہ ایران بھی حملے روکنے پرتیار ہوگیا ۔سوشل میڈیا پر پوسٹ میں امریکی صدر نے اعلان کیا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کے بعدکیا، دونوں رہنمائوں نے ایران کے خلاف کارروائی موخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے کہا دوطرفہ جنگ بندی 2ہفتے تک نافذ رہے گی ۔امریکی صدر نے لکھا اس اقدام کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور دیر پا امن کے لیے راہ ہمراہ کرنا ہے جنگ بندی اس شرط پر کی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ ہو جائے گاامریکا اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے ۔امریکی اخبار نے کہا ہے ایران نے بھی پاکستان کی 2 ہفتے کی جنگ بندی کی تجویز قبول کرلی، ایران کے نئے سپریم لیڈر نے جنگ بندی کی منظوری دی ۔امریکی اخبار نے ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کا پہلا راؤنڈ 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوگا۔ایران نے واضح کیا دونوں فریقین نے اتفاق کیا تومذاکرات کی مدت میں توسیع ہوسکتی ہے ، بات چیت کا مقصد زیادہ سے زیادہ 15دنوں کے اندر ایران کی میدان جنگ میں کامیابیوں کی سیاسی طورپرتصدیق کرنا ہے ۔امریکی میڈیا سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بھی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور حملے روکنے پر آمادہ ہوگیا ہے ۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے جنگ بندی معاہدے کی توثیق کردی۔عباس عراقچی نے کہا ایران پر حملے رک گئے تو ایران بھی حملے روک دے گا، انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ایرانی فوج سے رابطے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے دو ہفتے تک محفوظ ٹرانزٹ ممکن ہے ۔ قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی تھی ایران کو دی جانے والی ڈیڈ لائن میں 2 ہفتے کی توسیع کی جائے ،اس کے ساتھ انہوں نے ایران سے بھی درخواست کی تھی خیر سگالی کے طور پر 2 ہفتوں کے لیے آبنائے ہر مز کھول دیں ۔ ترجمان وائٹ ہائوس نے کہا تھا وزیر اعظم شہبازشریف کی درخواست پر مشاورت جاری ہے ، جلد ہی اس پر جواب دیا جائے گا ، وزیر اعظم نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ‘مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں مستقل، مضبوط اور مؤثر انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں، امکان ہے کہ یہ کوششیں مستقبل قریب میں ٹھوس نتائج تک پہنچ جائیں گی ،سفارت کاری کو اپنا راستہ مکمل کرنے کا موقع دیں ،میں صدر ٹرمپ سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں،ا نہوں نے مزید لکھا کہ پاکستان پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے ایرانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ نیک نیتی کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم تمام فریقین سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ دو ہفتوں کے لیے ہر جگہ جنگ بندی کریں تاکہ سفارت کاری جنگ کے حتمی خاتمے تک پہنچ سکے ، جو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ مستقبل قریب میں خاطر خواہ نتائج کا باعث بننے کی صلاحیت کے ساتھ مستحکم، مضبوطی اور طاقت کے ساتھ ترقی کر رہا ہے ،ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف کی اپیل سے باخبر ہیں اس حوالے سے مشاورت جاری ہے جلد ہی ان کی اپیل پر جلد جواب دیں گے ،سینئر ایرانی عہدیداروں نے بھی کہا ہے کہ ایران وزیراعظم شہبازشریف کی درخواست کا جائزہ لے رہا ہے ۔اس سے قبل وزیرِ اعظم شہبازشریف نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور سعودی عرب اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا،وزیرِ اعظم نے جاری حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور سعودی عرب میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی،انہوں نے ولی عہد کو یقین دلایا کہ جس طرح سعودی قیادت اور عوام نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے پاکستان کی حکومت اور عوام بھی ہمیشہ اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
وزیرِ اعظم نے موجودہ کشیدگی کے دوران سعودی قیادت کی جانب سے تحمل اور دانشمندی کے مظاہرے کو سراہا اور کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر امن کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے ، انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے بھی ولی عہد کو آگاہ کیا۔وزیرِ اعظم نے خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک تمناؤں اور پرتپاک سلام کا اظہار بھی کیا۔ولی عہد نے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ دریں اثنا دفترِ خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں توانائی کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے ،پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے ، ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں پر گہری تشویش ہے اور ان کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر پاکستان کو گہرا دکھ ہے ، ترجمان نے اہم انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا ،حکومتِ پاکستان نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس مشکل گھڑی میں سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے ۔
راولپنڈی (خصوصی نیوز رپورٹر،دنیا نیوز،اے پی پی)کور کمانڈرز کانفرنس نے مشرقِ وسطی ٰمیں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے حکومت کی بھرپور سفارتی کوششوں کو سراہاہے اور تحمل، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا اور اصولی سفارتکاری اور تعمیری روابط کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیاہے ۔ آئی ایس پی آرسے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے جنرل ہیڈکوارٹرز میں 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کی۔فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان معصوم شہریوں کے شہدا کے لئے فاتحہ خوانی کی جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی بے مثال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی میراث پاکستان کی قومی سلامتی کی بنیاد ہے ،چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت، عملی کارکردگی اور ملکی دفاع کے لئے غیر متزلزل عزم، نیز مسلسل انٹیلی جنس پر مبنی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو سراہا۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت، مسلح افواج اور عوام کے باہمی اشتراک سے پاکستان سکیورٹی کامیابیوں کو مستحکم، معاشی استحکام کو مضبوط اور علاقائی و عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو مزید بہتر بنا رہا ہے ،فورم نے داخلی و خارجی سکیورٹی صورتحال کا جامع جائزہ لیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارت اور دیگر بیرونی سرپرستوں کی ایما پرسرگرم تمام دہشت گرد عناصر، ان کے سہولت کاروں اور معاونین کو بلا امتیاز اور مسلسل کارروائی کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔ آپریشن "غضب للِحق" کی رفتار کو برقرار رکھا جائے گا یہاں تک کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ ہو اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال فیصلہ کن طور پر بند کر دیا جائے ۔فورم نے مشرقِ وسطی ٰمیں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے حکومت کی بھرپور سفارتی کوششوں کو سراہا اور تحمل، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا ہے اور ساتھ ہی اصولی سفارتکاری اور تعمیری روابط کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ فورم نے ایک ذمہ دار علاقائی فریق کے طور پر پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا جو امن اور استحکام کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے ۔
فورم نے سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی اور انہیں غیر ضروری اشتعال انگیزی قرار دیا جو پرامن حل کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ فورم نے اس بات کو سراہا کہ شدید اشتعال انگیزیوں کے باوجود سعودی عرب نے اب تک تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا جس سے سفارتی حل کی راہ ہموار ہوئی، تاہم اس طرح کی بلاجواز جارحیت جاری امن عمل کو متاثر کر سکتی ہے ۔فورم نے بھارت کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات، بے بنیاد الزامات اور فالس فلیگ بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حربے عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔ فورم نے بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور حالیہ جعلی مقابلوں کو ماورائے عدالت قتل کو چھپانے کی کوشش قرار دیا۔اپنے اختتامی کلمات میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کمانڈرز کو ہدایت دی کہ وہ اعلی ٰترین آپریشنل تیاری، پیشہ وارانہ معیار اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے مسلح افواج کی اس صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر صورت دفاع کریں گی۔
ریاض ، تہران (نیوز ایجنسیاں )ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی فورس نے دعویٰ کیا کہ اس نے جبیل میں واقع پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق یہ حملے ایران کے عسلویہ میں واقع پیٹروکیمیکل پلانٹس پر مبینہ دھماکوں کے جواب میں کیے گئے ۔ایرانی پاسداران نے درمیانی فاصلے کے میزائلوں اور متعدد ڈرونز کے ذریعے جعیمہ میں بھی سدرہ کمپلیکس کو نشانہ بنایا، جو امریکی کیمیکلز کمپنی ڈاؤ اور سعودی ارامکو کے درمیان قائم 20 ارب ڈالر کا مشترکہ منصوبہ ہے ۔ یہ کمپلیکس گزشتہ ہفتے بند کر دیا گیا تھا۔ جبیل کو سعودی عرب کے توانائی کے شعبے کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور وہاں اربوں ڈالر کے مشترکہ منصوبے قائم ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کے ایک ڈرون حملے میں کویت کے علی السالم ایئر بیس پر 15 امریکی زخمی ہوئے ۔
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے طیاروں نے ایران کے جزیرے خارگ، ریلوے تنصیبات اور پلوں پر فضائی حملے کیے ۔جزیرے خارگ میں زور دار دھماکے سنے گئے ہیں، حملوں کے دوران اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے جزیرہ خارگ پر حالیہ حملے کے بعد صورتحال قابو میں ہے اور انفراسٹرکچر سائٹس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ جزیرے کے تیل کے سہولت مراکز بھی کسی خلل کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ایرانی حکام نے منگل کے روز بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کی ایک لہر میں کم از کم دو پل، ریلوے انفراسٹرکچر اور ایک اہم شاہراہ کو نقصان پہنچا۔ ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد کے لیے تمام ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں۔ کرج اور فردیس میں بجلی کی سپلائی منقطع ہو گئی، کیونکہ فضائی حملوں میں پاور ٹرانسمیشن لائنز اور ایک پاور سب اسٹیشن متاثر ہوئے ۔ایران کے مطابق، تہران میں ایک یہودی عبادت گاہ (سیناگوگ) راتوں رات اسرائیلی فضائی حملوں میں تباہ ہو گئی۔ علاوہ ازیں ایرانیوں نے منگل کے روز ٹرمپ کی دھمکی کے بعد بجلی گھروں کی حفاظت کے لیے انسانی زنجیریں بنائیں ۔
آن لائن مہم اور ایس ایم ایس کے ذریعے لوگوں کو انسانی زنجیروں میں شامل ہونے کے لیے رجسٹر ڈکرنے کی مہم کے بعد حکام نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں 14 ملین سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہوئے ہیں۔فوری طور پر اس تعداد یا شرکت کرنے والے افراد کی تصدیق ممکن نہیں تھی، تاہم ابتدائی تصاویر میں ہر مقام پر درجنوں افراد شامل نظر آئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق مشتعل مظاہرین نے عراقی شہر بصرہ میں کویتی قونصل خانے پر دھاوا بول دیا۔اس سے قبل، سکیورٹی اور صحت کے حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ کویت کی جانب سے داغے گئے راکٹ بصرہ کے قریب ایک گھر پر گرے ، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ادھر کویت کی وزارتِ داخلہ نے اپنے شہریوں اور رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ بطور "احتیاطی تدبیر" آدھی رات سے بدھ کی صبح 6 بجے تک گھروں میں رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔امریکی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب ایران اور اسرائیل نے حملے تیز کردئیے ، اسرائیل نے ایران کے ماہ شہر میں امیر کبیر پیٹروکیمیکل پلانٹ اور وسطی ایران میں اراک پیٹروکیمیکل پلانٹ پر بھی حملے کئے گئے ۔البرز صوبے میں ہائی وے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔جبکہ ایران نے بیک وقت امارات ،بحرین ، کویت ،اسرائیل پر میزائل داغ دئیے ، اسرائیلی فوج نے اسرائیلیوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کردی۔