عدالتی فیصلے پر تنقید کی پابندی نہیں:چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
میڈیا ریاست کا چوتھا ستون، مفاد عامہ کے فیصلے ٹوئسٹ کیے بغیر اجاگر کریں:جسٹس سرفراز زرد صحافت کی حوصلہ شکنی کریں:ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن حلف برداری پر خطاب
اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے کہا جوڈیشری کے اس ادارے سے لوگوں کی واحد امید باقی رہ جاتی ہے ، ہماری غلط بات پر بے شک تنقید کریں ،ہمیں خوشی ہو گی ، مفاد عامہ کے کیسز میں دیئے گئے فیصلوں کو ٹوئسٹ کیے بغیر ہائی لائٹ ضرور کریں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری سے خطاب میں کیا، اس موقع پر جسٹس انعام امین منہاس بھی موجود تھے ۔ چیف جسٹس نے خطاب میں کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے ، ہائیکورٹ کی رپورٹنگ اہم ذمہ داری ہے ، کورٹ رپورٹرز ذمہ دارانہ صحافت کریں اور زرد صحافت کی حوصلہ شکنی کریں۔ انہوں نے کہا جب ہم کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو وہ پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے جس پر تنقید آپ کا حق ہے ، اس پر کوئی پابندی نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کورٹ رپورٹرز میڈیا پر جو الفاظ ادا کرتے ہیں ان کی اہمیت ہوتی ہے ، لوگ سن کر اپنا ذہن بناتے ہیں، آپ کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے ، آپ وہ بات بھی کریں جو ہم ججز کسی کے بھلے کے لیے کرتے ہیں۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے نومنتخب کابینہ سے حلف لیا۔