ایکسچینج کمپنیوں کو ڈالر کی فارورڈ سیل کی مشروط اجازت
ایکسچینج کمپنیاں پانچ روز کا ریٹ پہلے سے طے کر سکیں گی،سٹیٹ بینک
کراچی(رپورٹ:حمزہ گیلانی)سٹیٹ بینک نے زرمبادلہ ذخائر اور قانونی ترسیلاتِ زر کو مزید بہتر بنانے کیلئے ایک بڑا ریگولیٹری اقدام اٹھاتے ہوئے ایکسچینج کمپنیوں کو فارورڈ سیل کی مشروط اجازت دے دی ہے ،اس فیصلے کے بعد اب ایکسچینج کمپنیاں بینکوں کے ساتھ ڈالر کا ریٹ پہلے سے طے کر کے اسے 5 ورکنگ ڈیز کے اندر فراہم کرنے کی مجاز ہوں گی۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق، یہ سہولت صرف مجاز ڈیلرز یا بینکوں کے ذریعے ہی میسر ہوگی۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں ڈالر کی دستیابی کو مزید مستحکم بنانا اور ایکسچینج کمپنیوں کو ایسی ریگولیٹری سہولت فراہم کرنا ہے جس سے وہ بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم کو زیادہ بہتر طریقے سے سرانجام دے سکیں ۔چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ظفرپراچہ نے کہا کہ قلیل مدتی فارورڈ سیل کی اجازت سے ایکسچینج مارکیٹ میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوگا۔انہوں نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ریٹ میں استحکام آئے گا اور سٹہ بازی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ظفر پراچہ نے دنیا نیوز کو مزید بتایا کہ جب ایکسچینج کمپنیوں کو ریٹ کا تحفظ ملے گا تو وہ زیادہ دلجمعی کے ساتھ قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر اکٹھی کریں گی، جس کا براہِ راست فائدہ ملکی معیشت اور زرمبادلہ ذخائر کو ہوگا یعنی ایکسچینج کمپنیوں کو ڈالر کے ریٹ میں اچانک کمی یا اضافے کے خوف سے نجات مل جائے گی اور جب ایکسچینج کمپنیوں کو معلوم ہوگا کہ ان کا ریٹ 5 دنوں کے لیے محفوظ ہے ، تو وہ مارکیٹ سے زیادہ سے زیادہ ڈالر خرید کر بینکوں کو فراہم کریں گی، اس سے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی بہتر ہوگی اور کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔