تونسہ : مبینہ غیر محفوظ طبی طریقوں سے بچوں میں ایڈز کا پھیلاؤ

 تونسہ : مبینہ غیر محفوظ طبی طریقوں سے بچوں میں ایڈز کا پھیلاؤ

ہسپتال میں مبینہ غیر محفوظ طریقہ کار، بغیر دستانوں کے انجکشن اورویڈیو شواہد نے تشویش میں اضافہ کر دیا ایک بچہ 8سال کی عمر میں ایڈز سے انتقال کرگیا،بہن بھی مبتلا ،دونوں انجکشن سے متاثر ہوئے ، والدین 331بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص، نصف کیسز سرنجوں کے استعمال سے منسلک،تحقیقاتی رپورٹ

تونسہ ( مانیٹرنگ سیل )تونسہ شہرمیں بچوں میں ایڈز کے پھیلاؤ کا انکشاف ہوا ہے ۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق غیر محفوظ طبی طریقہ کار، خصوصاً استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، اس سنگین مسئلے کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے ۔ ایک بچہ محمد امین صرف آٹھ سال کی عمر میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے کچھ ہی عرصے بعد انتقال کر گیا ۔ اس کی بہن بھی اسی مرض سے متاثر ہے ۔خاندان کے مطابق دونوں بچوں کو یہ مرض تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں عام طبی معائنے کے دوران لگنے والے انجکشنز کے ذریعے لاحق ہوا۔تحقیقات کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں کم از کم 331 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔

ان میں سے نصف کیسز کو استعمال شدہ سرنجوں سے جوڑا گیا جبکہ باقی کیسز کی وجوہات واضح نہیں ہو سکیں۔اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر بچوں کو یہ مرض ماؤں سے منتقل نہیں ہوا کیونکہ جانچ کیے گئے 97 کیسز میں صرف چار ماؤں میں ایچ آئی وی موجود تھا۔32 گھنٹے کی خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ میں دیکھا گیا کہ ہسپتال میں کئی بار استعمال شدہ سرنجوں میں دوبارہ دوائی بھر کر مختلف مریضوں کو لگائی گئی۔ بعض مواقع پر ایک ہی وائل سے مختلف بچوں کو انجکشن دئیے گئے جس سے وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔مزید یہ کہ عملے کو متعدد بار بغیر دستانے پہنے مریضوں کو انجکشن لگاتے ہوئے بھی دیکھا گیا جبکہ طبی فضلے کو بھی غیر محفوظ طریقے سے ہینڈل کیا جا رہا تھا۔

ماہرِ امراضِ متعدی ڈاکٹر الطاف احمد کے مطابق اگر سرنج کی سوئی تبدیل بھی کر دی جائے پھر بھی سرنج کے اندر موجود وائرس نئی سوئی کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے ۔ہسپتال کے موجودہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یا تو یہ ویڈیوز ان کی تعیناتی سے پہلے کی ہیں یا ممکنہ طور پر’’سٹیج‘‘ کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں انفیکشن کنٹرول کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔تاہم تحقیقاتی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی غیر محفوظ طریقے جاری ہیں۔

ماہرین کے مطابق مسئلے کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں غیر ضروری انجکشنز کا زیادہ استعمال بھی ہے ۔ مریض اکثر خود انجکشن کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ ڈاکٹرز بھی یہ مطالبہ پورا کر دیتے ہیں۔آغا خان ہسپتال کراچی کی پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ میر کے مطابق انجکشن صرف سنگین بیماریوں میں استعمال ہونے چاہئیں جبکہ عام بیماریوں میں صرف ادویات کافی ہوتی ہیں۔ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو نہ صرف طبی مسائل بلکہ سماجی تنہائی کا بھی سامنا ہے ۔ عاصمہ کے خاندان کے مطابق محلے کے بچے اس کے ساتھ کھیلنے سے گریز کرتے ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں