فیلڈ مارشل کی ایران ، وزیراعظم کی سعودی عرب میں ملاقاتیں، جنگ کا خاتمہ قریب : ٹرمپ

فیلڈ مارشل کی ایران ، وزیراعظم کی سعودی عرب میں ملاقاتیں، جنگ کا خاتمہ قریب : ٹرمپ

شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے خطے کی صورتحال ،دو طرفہ تعلقات پر گفتگو، قطر،ترکیہ بھی جائینگے ،عاصم منیر کے سلیوٹ پر عراقچی نے بڑھ کر گلے لگایا،گرمجوش مصافحہ، مذاکرات کے دوسرے دور پر بات چیت،محسن نقوی بھی ہمراہ چین کا ایران کو ہتھیار نہ بھیجنے پر اتفاق،وہ خوش کہ ہم آبنائے ہرمز کھول رہے :امریکی صدر، ٹرمپ بڑا معاہدہ چاہتے :وینس، ایران کی سمندری تجارت مکمل بند :امریکی فوج،ناکہ بندی جارہی رہی تو بحیرہ احمر،خلیج فارس، بحیرہ عمان بند کردینگے :ایران

راولپنڈی،تہران، ریاض، واشنگٹن(خصوصی نیوز رپورٹر،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران مصالحت کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں اہم ملاقاتیں کیں،جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا جنگ کا خاتمہ قریب ہے ، امریکا ایران کیساتھ بہترین معاہدہ کرسکتا ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرداخلہ محسن نقوی وفد کے ہمراہ تہران پہنچے تو ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے استقبال کیا ۔سپہ سالار نے استقبال کیلئے آنے والے میزبان کو سلیوٹ کیا تو عباس عراقچی نے آگے بڑھ کر گلے لگا لیا، جاندار مسکراہٹوں کا تبادلہ اور گرمجوش مصافحہ ہوا،فیلڈمارشل سید عاصم منیر نے ایرانی وزیرخارجہ سے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔عباس عراقچی نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تہران آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، مذاکرات کی میزبانی پاکستان اور ایران کے مضبوط تعلقات کا مظہر ہے، خطے میں امن و استحکام کیلئے ہماراعزم پختہ ہے ۔فیلڈ مارشل کے اہم ترین دورے میں ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور پر بات چیت ہوئی۔

دریں اثنا وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ،جدہ کے قصر اسلام پہنچنے پر شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہبازشریف کا استقبال کیا،دونوں رہنماؤں نے باہمی امور اور دو طرفہ تعلقات پر گفتگو کی،خطے کی تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،دونوں رہنماؤں نے ایران امریکا مذاکرات کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کے جدہ پہنچنے پر نائب گورنر مکہ شہزادہ سعود بن مشعال بن عبدالعزیز ، سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر نواف بن سعید المالکی اور سعودی عرب میں پاکستانی سفیر احمد فاروق نے ایئرپورٹ پر پُرتپاک استقبال کیا۔نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں، ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم 18اپریل تک سعودی عرب، قطر، اور ترکیہ کا دورہ پر ہیں،سعودی عرب کے بعد قطر کی قیادت کے ساتھ بھی جاری دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و سلامتی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ شہباز شریف ترکیہ کے دورہ کے دوران پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کرینگے ، شہباز شریف کی ترک صدر رجب طیب اردوان اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

ثالثی کی کوششوں میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے اے پی کو بتایا کہ دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے سے پہلے ، ثالث تین اہم نکات پر سمجھوتا کرنے پر زور دے رہے ہیں جن میں ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور جنگ کے وقت ہونے والے نقصانات کا معاوضہ شامل ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس بزنس کو دئیے گئے انٹرویومیں کہا آبنائے ہرمز دوبارہ کھل رہی ہے اور بحری جہاز اس راستے سے گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے مزید کہاہم نے ابھی کام ختم نہیں کیا، لیکن انھوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا ایران کے ساتھ ایک ’بہترین معاہدہ‘ کر سکتا ہے ،تہران کے ساتھ امن مذاکرات اسی ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے ایران کو ہتھیار نہ بھیجنے پر اتفاق کر لیا ہے ۔واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو خط لکھ کر اس معاملے پر درخواست کی تھی اور انہوں نے مجھے جواب میں خط لکھا کہ وہ بنیادی طور پر ایسا نہیں کر رہے ۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا چین اس بات پر بہت خوش ہے کہ میں آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہا ہوں۔ میں یہ ان کے لیے بھی کر رہا ہوں اور پوری دنیا کے لیے بھی۔

انھوں نے مزید کہایہ صورتحال دوبارہ کبھی پیش نہیں آئے گی۔ انھوں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایران کو ہتھیار نہیں بھیجیں گے ۔اپنے بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور چین اس معاملے پر دانشمندی اور بہترین طریقے سے مل کر کام کر رہے ہیں، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا لڑنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔14-15 مئی کو بیجنگ میں شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی مجوزہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا جب میں چند ہفتوں میں وہاں جاؤں گا تو صدر شی مجھے زبردست گلے ملیں گے ۔ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات اصل میں مارچ میں ہونا تھی، لیکن ٹرمپ کے جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا۔ٹرمپ سے فاکس کے انٹرویو میں اس رپورٹ کے بارے میں بھی سوال کیا گیا کہ چین نے حال ہی میں ایف بی آئی کے خلاف ایک بڑا سائبر حملہ کیا۔ انہوں نے اس کی براہِ راست تصدیق نہیں کی، لیکن کہا ہم ان کے ساتھ ایسا کرتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ ایسا کرتے ہیں۔چین، چین ہے ۔ وہ کبھی آسان نہیں ہوتے ، لیکن ہم چین کے ساتھ بہت اچھا کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ چین کے حوالے سے ’’سب سے سخت مؤقف رکھنے والے شخص‘‘ ہیں۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک "بڑا معاہدہ" کرنا چاہتے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد موجود ہے ۔انہوں نے کہا بنیادی طور پر اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صدر نے ایک پالیسی طے کر دی ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونا چاہیے ۔ اور اس وقت ہم اسی بات کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، صدر ٹرمپ کوئی چھوٹی ڈیل نہیں چاہتے ، وہ ایک بڑا، جامع معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ بنیادی طور پر ایران کو ایک سادہ پیشکش کی گئی ہے ۔ صاف بات یہ ہے کہ شاید کسی بھی صدر کے پاس اس طرح کی پیشکش کرنے کی صلاحیت پہلے نہیں تھی۔اگر آپ ایک نارمل ملک کی طرح برتاؤ کرنے پر آمادہ ہوں، تو ہم بھی آپ کے ساتھ معاشی طور پر ایک نارمل ملک کی طرح سلوک کریں گے ۔انہوں نے کہا چونکہ ٹرمپ چھوٹا معاہدہ نہیں چاہتے ، یہی ایک وجہ ہے کہ اگرچہ پاکستان میں کافی پیش رفت ہوئی ہے ، لیکن معاہدہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ صدر واقعی ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں، ایران دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی نہ کرے ، اور ساتھ ہی ایران کے عوام ترقی کریں، خوشحال ہوں اور عالمی معیشت کا حصہ بنیں۔یہی وہ پیشکش ہے جو وہ کر رہے ہیں۔

وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کا عہد کریں، تو ہم ایران کو ترقی دیں گے ، اسے معاشی طور پر مضبوط بنائیں گے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا اور وہ بات چیت کو ترجیح دیتا ہے ۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا ایران نہ جنگ اور نہ ہی عدم استحکام کا خواہاں ہے ، بلکہ ہمیشہ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ مکالمے اور تعمیری روابط کی زبان پر زور دیتا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ایران کسی صورت ہتھیار ڈالنے کو قبول نہیں کرے گا، کسی بھی طرح کی زبردستی مسلط کرنے یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔ ایران اس دوہرے معیار کی مذمت کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف فوجی کارروائی بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے ۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایران پر حملہ کسی قانونی اختیار کے تحت کیا گیا؟ اور اصل جرم کیا ہے ؟ آخر شہریوں، ماہرین، بچوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور سکولوں و ہسپتالوں سمیت اہم مراکز کی تباہی کا کیا جواز ہے ؟ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ ایرانی وفد کی پاکستان سے وطن واپسی کے بعد امریکا سے پاکستان کے ذریعے کئی پیغامات کا تبادلہ ہوا، پاکستان کے ذریعے امریکا سے تاحال پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے ، امریکا سے جنگ میں ایران کو پہنچے نقصانات کے ازالے پر بھی بات ہوئی، جنگ کے خاتمے پر بات ہوئی ساتھ ہی ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے پر بھی مذاکرات ہوئے ۔

ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول میں دلچسپی نہیں رکھتا،ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہے ،ایران اپنے حقوق پر سمجھوتا نہیں کرے گا، ایران کو اپنی ضروریات کے مطابق یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کا حق ہونا چاہیے ، تاہم افزودگی کی نوعیت اور سطح پر بات چیت کی گنجائش موجود ہے ۔ایران کو خطے میں کسی بھی قسم کی مداخلت قبول نہیں۔ایک اور صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا سے اب جو مذاکرات ہوں گے وہ مکمل جنگ بندی کیلئے ہوں گے ۔ادھر امریکی فوج نے کہا کہ ناکہ بندی کے ذریعے ایران کی سمندر سے تجارت کو مکمل بند کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا ناکہ بندی کے تحت مزید جہازوں کو روکا جا رہا ہے ، جن میں چین کی ملکیت والا اور امریکی پابندیوں کا شکار آئل ٹینکر "رچ سٹاری" بھی شامل ہے ، جو بدھ کو آبنائے ہرمز کے راستے واپس جاتا دیکھا گیا۔رپورٹس کے مطابق ناکہ بندی کے آغاز (پیر) سے اب تک ایران سے منسلک آٹھ آئل ٹینکرز کو روکا جا چکا ہے ۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق، ایک امریکی جنگی جہاز نے منگل کو خلیجِ عمان میں ایرانی بندرگاہ چاہ بہار سے نکلنے کی کوشش کرنے والے دو ٹینکرز کو روک دیا۔ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایک ایرانی سپر ٹینکر، جو امریکی پابندیوں کا شکار ہے ، ناکہ بندی کے باوجود امام خمینی بندرگاہ کی جانب گیا، ممکنہ طور پر خالی واپس آیا۔جبکہ ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو وہ بحیرہ احمر کے ساتھ ساتھ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے راستوں کو بھی تجارت کیلئے بند کر دے گا۔یہ بیان ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر علی عبداللہی کی جانب سے ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر امریکا اپنی ناکہ بندی جاری رکھتا ہے اور ایران کے تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کیلئے عدم تحفظ پیدا کرتا ہے تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ابتدا سمجھا جائے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران ناکہ بندی سے بچنے کیلئے متبادل بندرگاہیں استعمال کرے گا، جبکہ بعض شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ سمندری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں