ایران، امریکا مذاکرات: دوسرے مرحلے میں تاخیرکیوں!

 ایران، امریکا مذاکرات: دوسرے مرحلے میں تاخیرکیوں!

ڈیڈ لاک کہنا قبل از وقت، پاکستان کی سفارتی پوزیشن میں کئی گنا اضافہ ہو چکا

(تجزیہ:سلمان غنی)

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں، تاہم تاحال اس حوالے سے حتمی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا۔ بظاہر آبنائے ہرمز کھولنے کے ایرانی اعلان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مثبت ردعمل کے بعد مذاکراتی عمل میں کوئی بڑی رکاوٹ نظر نہیں آ رہی تھی، تاہم مختصر وقفے کے بعد آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش نے بعض خدشات کو جنم دیا ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق جب مذاکراتی عمل درست سمت میں بڑھ رہا تھا تو اچانک پیدا ہونے والا یہ تعطل سوالات کو جنم دیتا ہے کہ آیا یہ محض وقتی رکاوٹ ہے یا کسی بڑی پیشرفت سے قبل دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی؟۔

اس صورتحال میں یہ بھی زیر غور ہے کہ مذاکرات کس حد تک نتیجہ خیز ثابت ہوں گے ؟۔پاکستان، جو اس عمل میں ثالثی کردار ادا کر رہا ہے ، کی قیادت کرنیوالے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بیرونی دوروں کے بعد وطن واپس آ چکے ہیں۔ دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے تناظر میں لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی خلاف ورزیوں نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنایا، جس کے بعد ایران نے دوبارہ سخت مؤقف اختیار کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے پر مذاکرات میں ڈیڈ لاک قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ پس پردہ رابطے جاری ہیں مگر باضابطہ مذاکراتی فریم ورک کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔ بعض حلقے اس تاخیر کو تکنیکی قرار دیتے ہیں اور اسے دراصل پس پردہ بارگیننگ کا حصہ سمجھتے ہیں جہاں دونوں فریق اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایران کو امریکی قیادت پر مکمل اعتماد نہیں جبکہ امریکا کو ایران کے علاقائی کردار پر تحفظات ہیں، جس کے باعث غیریقینی کی فضا برقرار ہے ، تاہم ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں مذاکراتی عمل سے مکمل واپسی مشکل ہے کیونکہ جنگ بندی خود دونوں فریقین کی ضرورت بن چکی ہے ۔توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے متعلق مثبت پیشرفت سامنے آ سکتی ہے اور جنگ بندی میں توسیع بھی ناگزیر ہوگی۔ اس تمام عمل میں پاکستان کا کردار اگرچہ محدود ہے مگر غیر اہم نہیں۔چین، سعودی عرب اور یورپی یونین سمیت دیگر ممالک کی حمایت اور مشاورت نے پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی یہی مؤثر اور متوازن سفارتکاری فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے اور عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں