لاہور ہائیکورٹ : شیرانوالہ و ٹیکسالی گیٹ منصوبوں پر عائد حکم امتناعی واپس
ترقیاتی منصوبوں پر پابندی بھی ختم ، نئے ریگولیشنز کے مطابق آگے بڑھائے جاسکتے ہیں:جسٹس شاہد کریم ماحولیاتی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائیگا:عدالت، سموگ تدارک کیس کی مزید سماعت 16 اپریل کوہو گی
لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس کی گذشتہ سماعت کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹس پر عائد حکمِ امتناع واپس لے لیا، عدالت نے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں پر عائد پابندی بھی ختم کردی ،گذشتہ سماعت کے تحریری حکم میں عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ منصوبے اب نئے منظور شدہ ریگولیشنز 2026 کے مطابق آگے بڑھائے جاسکتے ہیں، تاہم تمام قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی لازمی ہوگی، پی ایچ اے کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے آغاز سے قبل تمام ضروری قانونی اور ماحولیاتی تقاضے پورے کرے ، عدالت نے درختوں کی کٹائی کے عمل کو سخت ضابطوں کے تحت لانے اور ری پلانٹیشن کو ریگولیشنز کے مطابق یقینی بنانے کا حکم بھی دیا۔
عدالت نے کمیشن کے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ تمام ترقیاتی منصوبوں کے ہر مرحلے پر مؤثر نگرانی یقینی بنائیں ۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل حسن اعجاز چیمہ نے موقف اپنایا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف اور سول سوسائٹی کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے پبلک پارکس اور گرین بیلٹس کے تحفظ کیلئے ریگولیشنز 2026 ء کا نوٹیفکیشن 17 مارچ 2026 کو جاری کیا جا چکا ، اب ان پر عملدرآمد میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں رہی ۔عدالت نے قرار دیا کہ ترقیاتی منصوبے اب نئے فریم ورک کے تحت آگے بڑھائے جائیں گے ، ماحولیاتی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، کیس کی مزید سماعت 16 اپریل کوہو گی۔