جماعت اسلامی کی نیپرا کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

 جماعت اسلامی کی نیپرا کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

جواب داخل کیا اور نہ ہی عدالتی حکم کے باوجود لوڈ شیڈنگ کے معاملے پرعملدرآمدکیا کے الیکٹرک نے شہر کو اندھیروں میں دھکیل دیا،فارنزک آڈٹ کرایا جائے ،منعم ظفر

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ میں جماعت اسلامی نے نیپرا حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے 6 نومبر 2025 کو نیپرا کو ایک ماہ میں لوڈ شیڈنگ سے متعلق فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم تاحال اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے سے کراچی کے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بڑھتی ہوئی گرمی میں بدترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے ۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نیپرا حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر اور اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل سیف الدین ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے کیونکہ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود چھ ماہ گزرنے پر بھی نیپرا نے جواب جمع نہیں کرایا۔ منعم ظفر نے کہا کہ کے الیکٹرک نے شہر کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے اور 12 سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ، جس سے شہری شدید اذیت میں مبتلا ہیں اور بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ادارے کی نجکاری ہوئی تھی تو 18 لاکھ صارفین تھے جو اب بڑھ کر 40 لاکھ ہوچکے ہیں، مگر بجلی کی فراہمی میں بہتری کے بجائے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیپرا، کے الیکٹرک اور وفاقی حکومت کے درمیان گٹھ جوڑ ہے اور شہریوں پر مختلف ٹیکسز کا بوجھ ڈالا جارہا ہے ، جبکہ نجی ادارے کو بھاری سبسڈی بھی دی جارہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا بجلی کی عدم فراہمی کے باعث صنعتیں بند ہورہی ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے ۔ منعم ظفر نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک پر ماضی میں جرمانہ بھی عائد کیا گیا مگر اس کے باوجود لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کی گئی، اس لیے ادارے کا گزشتہ 22 سال کا فارنزک آڈٹ کرایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں ترقیاتی کام جاری ہیں، تاہم بعض علاقوں میں سڑکوں کی خستہ حالی، سیوریج مسائل اور دیگر شہری مشکلات برقرار ہیں، جن کے حل کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں