پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کا تحفظ کرینگے :مسعود چشتی
بار ایسوسی ایشن ہڑتال کی کال نہیں دے سکتی:وائس چیئرمین پاکستان بار وکلاء میں تقسیم کی کوشش نہ کی جائے :خواجہ قیصر ، ثاقب اکرم گوندل
لاہور(کورٹ رپورٹر،اے پی پی)پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلوں کے معاملے پر غیر ضروری سیاست نامناسب، وکلاء کو تقسیم کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی ،پارلیمان کے فیصلوں کے ہم سب پابند ہیں ،ایک عدالتی فیصلے کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے سو ججز فارغ کردئیے جاتے ہیں ، کیایہ درست ہے ؟اسلام آباد ایک ضلع ہے اس کے ججوں کو دوسری جگہوں پر تعینات کیوں نہیں کیا جاسکتا ؟ ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پنجاب بار کونسل لاہور میں وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل خواجہ قیصر بٹ ،ممبر پاکستان بار ثاقب اکرم گوندل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ پیر مسعود چشتی نے مزید کہا کہ ججوں کے تبادلوں کے معاملے پر ہڑتال نہیں کی جاسکتی ،ہڑتال کی کال صرف بار کونسل دے سکتی ہے بار ایسوسی ایشن نہیں ،اگر کسی بار ایسوسی ایشن نے اس ایشو پر ہڑتال کی تو بار کونسل کارروائی کرسکتی ہے ،آئینی ترمیم سے عدلیہ کی کارکردگی بہتر ہوئی ، خواجہ قیصر بٹ نے کہا بار کونسلیں پورے ملک کے وکلاء کے نمائندہ ادارے ،ایک روز قبل کی پریس کانفرنس میں چیف جسٹس پاکستان کو نامناسب الفاظ میں پکارا گیا ، ججوں کی تقرریاں اور تبادلے آئین کے مطابق ہو رہے ہیں۔ ثاقب اکرم گوندل نے کہا کہ آئین پاکستان اسمبلی کو ترمیم کرنے کا حق دیتا ہے ،وکلاء کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔