190 ملین پاؤنڈ کیس،اپیلوں پردلائل مکمل ، فیصلہ محفوظ
وزیراعلیٰ کے پی اکثر اعتراض کرتے ،سلام کہتے ،انہیں وعلیکم سلام:چیف جسٹس اپیل مقرر ہو نے پر سزا معطلی غیر مو ثر ،جلد حکم جاری کرینگے :اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں اور سزا معطلی درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر جلد حکم جاری کیا جائے گا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اکثر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ سلام کرنا چاہتے ہیں، جس پر عدالت کی جانب سے انہیں وعلیکم السلام کہا جاتا ہے ۔سماعت میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، سردار لطیف کھوسہ، علی بخاری سمیت دیگر وکلا پیش ہوئے جبکہ نیب کی جانب سے سپیشل پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود عدالت میں حاضر ہوئے ۔ بانی کی بہن علیمہ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔
سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ بانی کو جیل میں قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور انہیں صحت کے مسائل کا بھی سامنا ہے جبکہ بشریٰ کو بھی الگ رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے مو قف اختیار کیا کہ قید تنہائی طویل عرصے تک رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور یہ سزا عدالتی فیصلے میں شامل نہیں۔وکیل نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری کے بعد انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں اور جیل میں علاج ممکن نہیں، لہٰذا عدالت جیل حکام اور متعلقہ ڈاکٹرز کو طلب کرے اور ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے ۔چیف جسٹس نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ مرکزی اپیل پر دلائل دیں تاکہ کیس کو جلد نمٹایا جا سکے ۔ عدالت نے کہا کہ اگر اپیل مقرر ہو جائے تو سزا معطلی کی درخواست غیر مو ثر ہو جاتی ہے ۔بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس پر آرڈر جاری کرینگے ،جس کے بعد بینچ کے ججز چیمبر میں چلے گئے ۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے بانی کے قانونی دستاویزات پر دستخط سے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے وکیل کو جیل مینوئل کے مطابق معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کیس کی سماعت 11 مئی تک ملتوی کردی۔