ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملہ ،وزیر اعظم نے کارروائی سے روکدیا

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملہ ،وزیر اعظم نے کارروائی سے روکدیا

اعظم نذیر سربراہ، طلال چودھری ، سیکر ٹر ی کابینہ ، سیکرٹری کامرس کمیٹی ممبر کمپنی نے قوانین توڑے ، گروپ ڈیفالٹ ہوگیا، 2019 میں متنازع فیصلہ سنایا گیا

اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک )وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دے دی۔وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر  تارڑ کی سربراہی میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری ، سیکر ٹر ی کابینہ اورسیکرٹری کامرس کمیٹی کے ممبر ہونگے ،کمیٹی آئندہ ایک ہفتے میں معاملے کا جائزہ لے کر جامع رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی ، وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اس دوران اس معاملے میں کوئی بھی متاثرہ شخص اپنی معروضات کمیٹی کو پیش کر سکے گا اور کمیٹی بلا تفریق فریقین اور متاثرین کو سنے گی،وزیراعظم کے اس معاملے پر حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی طرف سے کسی بھی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی ، دریں اثنا وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، 3 بڑی کمپنیوں نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی جگہ ہوٹل بنانے کیلئے لیز پر لی ، پلاٹ کی بنیاد پر بینک آف پنجاب سے قرض لیا گیا ، بینک کی اقساط نہ دینے پر گروپ ڈیفالٹ ہوگیا۔ ریڈ زون میں 70 ہزار روپے سکوائر فٹ لیز پر لیا گیا۔ 2019 میں متنازع فیصلہ سنایا گیا جو آج تک متنازع ہے ،طلال چودھری نے کہا کہ 2016 میں لیز معاہدہ کینسل کرکے سی ڈی اے نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا کنٹرول لے لیا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں