امریکا ایران مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتے
پاکستان پرامید ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رہتا ہے تو حل ضرور نکلے گا
(تجزیہ:سلمان غنی)
تہران کی جانب سے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھجوائی جانے والی تجاویز سے امریکا ایران کے درمیان ایشوز کے حوالہ سے سفارتی عمل کی تصدیق کے ساتھ پاکستان کا ثالثی کردار نمایاں نظر آ رہا ہے اور ظاہر ہو رہا ہے کہ فریقین باہم رابطے میں ہیں،دونوں فریقین مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتے اور دونوں پاکستان کی ثالثی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے ذریعے مذاکراتی عمل سے وابستہ ہیں اور کسی حل کی تلاش میں ہیں، البتہ مسائل کا حل اسی صورت میں ممکن ہوگا جب فریقین اپنے موقف میں لچک پیدا کریں۔ اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ پاکستان کے ذریعے ایک دوسرے کو بھجوائی جانے والی تجاویز کس حد تک حقیقت پسندانہ ہیں اور اس امر کے کیا امکانات ہیں کہ فریقین جنگی کیفیت سے نکل کر مذاکرات کی نتیجہ خیزی کو یقینی بنائیں گے ،جہاں تک ایران کی امریکا کو بھجوائی جانے والی تجاویز کا سوال ہے تو یہ تجاویز جزوی طور پر تو حقیقت پسندانہ ہو سکتی ہیں لیکن مکمل طور پر قابل عمل نظر نہیں آتیں ۔امریکا کے خدشات واضح ہیں کہ ایران جوہری پروگرام کو مکمل شفاف نہیں بناتا اور خطے میں اپنی پراکسیز سے ہاتھ اٹھانے پر تیار نہیں ،فریقین کے تحفظات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ علاقائی طاقتوں کے مفادات اور سکیورٹی خدشات ا س تنازع کو پیچیدہ بناتے ہیں اور بیک چینل تجاویز بھی اس وقت ہی کارگر ہوتی ہیں جب بڑی طاقتیں سنجیدہ ہوں ۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا نے تجاویز بھجوانے کی تصدیق تو کی ہے لیکن ساتھ ہی ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ امریکی مذاکرات سے فوری نتائج کی توقع رکھنا مناسب نہیں۔ جہاں تک پاکستانی کردار کا سوال ہے تو آج بھی پاکستان امریکا ایران کے درمیان بیک چینل کا کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے ۔ اسلام آباد کے واشنگٹن اور تہران سے ورکنگ تعلقات ہیں مگر وہ کسی معاہدہ کا ضامن نہیں بن سکتا۔ اس لئے ایران کی تجاویز پاکستان کے ذریعے پہنچ تو جاتی ہیں مگر ان پر عمل کا دارو مدار براہ راست امریکا ایران اعتماد پر ہوتا ہے ۔جہاں تک مذاکراتی عمل کی نتیجہ خیزی کا سوال ہے تو فی الحال تو یہ مشکل نظر آتا ہے مگر جزوی پیشرفت ہو سکتی ہے ،ایران کو یقین نہیں ہے کہ امریکا کسی طویل مدت کے معاہدہ پر کاربند رہے گا ،پاکستان اس حوالہ سے پرامید ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رہتا ہے تو حل ضرور نکلے گا ،تجاویز کے تبادلہ بارے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بظاہر کشیدگی برقرار لیکن سفارتی چینلز فعال ہیں، یعنی امید کی کرن روشن ہے ، مگر ابھی حتمی پیشرفت ضمانت نہیں، البتہ تجاویز کے تبادلے سے ہی اصل کھیل کا آغاز ہوتا ہے ۔