کوئٹہ:ریلوے ٹریک پر دھماکا،ایف سی اہلکاروں سمیت14 شہید،متعدد زخمی
اتوار کی صبح8بجے کوئٹہ کینٹ سٹیشن سے آنیوالی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب پہنچی تو زور دار دھماکا ہوا،شہدامیں خواتین ،بچے اور3ایف سی اہلکار بھی شامل ،کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ،20 گاڑیوں کو نقصان ،جعفر ایکسپریس منسوخ ، بلوچستان کیساتھ کھڑے ہیں:وفاقی وزیرداخلہ ،صدر،وزیراعظم اور دیگرکی جانب سے واقعے کی شدیدمذمت
کوئٹہ (کرائم رپورٹر،سٹاف رپورٹر،سٹی رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر زوردار دھماکے سے ایف سی اہلکاروں سمیت 14افراد شہیداور متعدد زخمی ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے ، جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔حکام کے مطابق اتوار کی صبح آٹھ بجے کوئٹہ کینٹ سٹیشن سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب پہنچی تو ٹریک پر زور دار دھماکا ہوا جس سے انجن سمیت تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو الٹ گئیں، ایک بوگی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور قریب کھڑی متعدد گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے میں تقریباً 70 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
دھماکے کی شدت سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ 20 سے زائد گاڑیوں کو نقصان پہنچا ۔حکومت بلوچستان نے فوری طور پر سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اور طبی عملے کو طلب کر لیا۔معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے تصدیق کی کہ شہداء میں فرنٹیئر کور (ایف سی)کے تین اہلکار بھی شامل ہیں۔ دہشت گردوں نے نہتے شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر بزدلانہ کارروائی کی ہے ۔سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے اور تحقیقات کا عمل شروع کر دیا ہے ۔ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ شٹل ٹرین کے مسافروں کو جعفر ایکسپریس کے ذریعے پشاور روانہ ہونا تھا۔ ٹرین میں عید کی چھٹیاں منانے اپنے آبائی علاقوں کو جانے والے سرکاری ملازمین، سکیورٹی اہلکاروں، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد سوار تھی۔ دھماکے پرکوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس منسوخ کر دی گئی۔کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے )نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہدف سکیورٹی اہلکار تھے ۔ دوسری جانب حکومتی و عسکری حلقوں نے اس حملے کو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی سازش قرار دیا ہے ۔
صدر آصف زردای ، وزیراعظم شہباز شریف ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ، سربراہ مسلم لیگ ن نوازشریف ،وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی ،وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز ،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری اورامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔صدرزرداری نے کہا کہ دشمن عناصر پاکستان کے عوام کو نقصان پہنچانے کے ساتھ پاکستان کی عالمی امن کاوشوں سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ دنیا دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں کا اصل چہرہ دیکھے کہ وہ کس طرح پاکستان کی عالمی امن کی کوششوں کو متاثر کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان دہشت گردوں، انکے سہولت کاروں، مالی معاونت کرنے والوں اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کو شکست دے گا۔ امن، استحکام اور قومی سلامتی کیخلاف ہر سازش کو ناکام بنائیں گے اور دہشتگردوں اور انکے سرپرستوں کو نہ بھولیں گے اور نہ معاف کریں گے ،شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشتگردی کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں پاکستانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں اور حکومت دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ دشمن قوتیں پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں تاہم ریلوے آپریشن معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ انہوں نے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی۔دھماکا کے بعد ملک بھر میں ریلوے اسٹیشنوں، مسافر ٹرینوں اور حساس تنصیبات کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری تعینات جبکہ بم ڈسپوزل سکواڈز کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔ادھروفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی کی زیر صدارت کوئٹہ دھماکے کے حوالے سے خصوصی اجلاس ہوا، امن و امان کی صورتحال اور دھماکا کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ آئی جی بلوچستان پولیس طاہر خان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسروں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر آئی جی بلوچستان نے چمن پھاٹک دھماکے کی ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے ابتک کی پیشرفت پر بریفنگ دی۔اجلاس میں شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملے کی شدید مذمت کی گئی جبکہ شہداکے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت اس مشکل گھڑی میں بلوچستان حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔ درندہ صفت دہشتگردوں نے معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر بدترین سفاکیت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ شہدا کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے ۔ نواز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں معصوم جانوں پر ہونے والا بزدلانہ وار پوری قوم کے دل پر حملہ ہے ، دہشتگردی کیخلاف قوم کا عزم غیر متزلزل ہے ،میں شہداکے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہوں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کرتے کہا کہ محسن نقوی ہر مشکل وقت میں بلوچستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ہم شہداکے خون کے مقروض ہیں اور انکی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور ریاست دشمن عناصر کیخلاف کارروائیاں مزید مؤثر اور سخت انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہدا کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور حکومت ہر سطح پر معاونت جاری رکھے گی۔ وہ خود زخمیوں کے علاج معالجے کی نگرانی کر رہے ہیں اور تمام اداروں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے ۔قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی واقعہ کے بعد کوئٹہ پہنچ گئے اورحکومت بلوچستان سے اظہار یکجہتی کیا۔