صدر ، وزیر اعظم ملاقات ، بجٹ میں پھر تاخیر : قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس آج نہیں کل، بجٹ 12 جون کو پیش ہونے کا امکان ، عوامی فلاح ،صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے : زرداری

 صدر ، وزیر اعظم  ملاقات  ، بجٹ میں پھر تاخیر : قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس آج نہیں کل، بجٹ 12 جون کو پیش ہونے کا امکان ، عوامی فلاح ،صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے : زرداری

ایوان صدر میں حکومت،پیپلزپارٹی مذاکرات،بجٹ منظوری کیلئے پیپلز پارٹی نے گرین سگنل دے دیا، بعض قابل عمل نکات پر تکنیکی کمیٹیاں مشاورت جاری رکھیں گی :ذرائع بجٹ کا حجم ساڑھے 17 ہزار ارب روپے ، صوبوں کیساتھ معاملات طے پانے پر حجم بڑھ سکتا ، آئی ایم ایف کوراضی کرنا سخت مرحلہ، آزاد کشمیر کی صورتحال پر وزیر اعظم،بلاول ملاقات

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) صدر آصف زرداری ، وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں بجٹ پر مذاکرات ہوئے ، وزیر اعظم کی سربراہی میں صدر سے ملنے والے وفد میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ شامل تھے ،جبکہ صدر کے ہمراہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل راٹھور،راجہ پرویز اشرف ، شیری رحمان، سید نوید قمر، سلیم مانڈوی والا اور احد چیمہ ملاقات میں شریک تھے ۔ملاقات میں قومی سلامتی، داخلی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا ، اس موقع پر معیشت، اگلے مالی سال کے بجٹ، گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات، آزاد کشمیر کی صورتحال، امن و امان اور قومی اہمیت کے امور پر بات چیت کی گئی ، صدر آصف علی زرداری نے وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ آنے والے بجٹ میں شرحِ ترقی اور عوامی فلاح کی سکیموں کو ہم آہنگ کرنے کی پوری کوشش کی جائے ، اس مو قع پر حکومت اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کی بیشتر بجٹ تجاویز سے اتفاق کرلیا، اس حوالے سے حکومت کو بجٹ منظوری کیلئے پیپلز پارٹی کی جانب سے گرین سگنل مل گیا، بتایا گیا کہ بعض قابل عمل نکات پر تکنیکی کمیٹیاں مشاورت جاری رکھیں گی، ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان الگ ملاقات بھی ہوئی، جس میں بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر سے متعلق سیاسی صورتحال وزیراعظم کے سامنے رکھی۔ دریں اثنا وفاقی وزیر احسن اقبال نے حکومت اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی میں ترقیاتی بجٹ پر مذاکرات کامیاب ہونے کی نوید سنادی،اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ترقیاتی بجٹ پر مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں،احسن اقبال نے کہا کہ پی ایس ڈی پی پر حکومت اور اتحادیوں کے درمیان معاملات پر انڈرسٹینڈنگ ہے ، وفاق چھوٹے صوبوں پر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زیادہ پیسہ خرچ کرے گا۔

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں دوسری بار تبدیلی کر دی گئی،اب وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائیگا۔آج ہونے والے نیشنل اکنامک کونسل کا اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا ہے ،یہ اجلاس اب 10 جون کو طلب کرلیا گیا ۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے شیئرز میں پنجاب کے 620 ارب روپے ، سندھ کے 310 ارب روپے ، خیبرپختونخوا کے 180 ارب روپے اور بلوچستان کے 85 ارب روپے سے زائد کی رقم کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان بات چیت حل طلب ہے ۔وفاق کے پاس مالیاتی گنجائش موجود نہ ہونے کی وجہ سے سٹریٹجک اخراجات پورے کرنے کیلئے صوبوں کو شیئرز دینے کی بات چیت حتمی مراحل میں ہے ۔ وفاق این ایف سی ایوارڈ کے شیئرز میں صوبوں کا حصہ تقریباً 12 سو ارب روپے کم کرنا چاہتا ہے ۔ رواں مالی سال کیلئے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 8 ہزار 206 ارب روپے مختص ہیں۔

ذرائع نے بتایا وفاق کا مطالبہ ہے کہ صوبے آئندہ مالی سال بھی 82 سو ارب روپے کے لگ بھگ این ایف سی شیئرز حاصل کریں جبکہ ریونیو آمدن کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے اضافی این ایف سی شیئرز کو وفاق مالیاتی ضروریات پورا کرنے کیلئے استعمال کرے ۔ حکومت کی اتحادی جماعت کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت بجٹ 50 ارب روپے سے بڑھا کر 62 ارب روپے کیا گیا ہے ۔حکومتی رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان جی بی میں حکومت بنانے پر بھی اہم مذاکرات ہوئے ہیں اور جی بی میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے بجٹ 13 ارب سے بڑھا کر 19 ارب روپے کیا گیا ہے ۔ آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کا حجم تقریباً ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہے لیکن وفاق اور صوبوں کے درمیان معاملات طے پائے جانے سے بجٹ کا حجم بڑھ سکتا ہے ۔ حکومت اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد حکومتی معاشی ٹیم کو آئی ایم ایف کیساتھ بھی مذاکرات کرنے اور بجٹ اہداف پر راضی کرنا سخت مرحلہ ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں