ویزوں کا غیر قانونی استعمال ،10 ہزار واقعات: بنگلہ دیش میں بھی پاکستانیوں کیلئے سٹڈی ویزا محدود

 ویزوں کا غیر قانونی استعمال ،10 ہزار واقعات: بنگلہ دیش میں بھی پاکستانیوں کیلئے   سٹڈی ویزا محدود

دبئی، کمبوڈیا اور ملائشیا کے راستے پاکستانیوں کو یورپ پہنچانے کا منظم نیٹ ورک سرگرم ہے :ڈی جی ایف آئی اے رواں سال وزٹ ویزے پرآذربائیجان جانیوالے 7 ہزار پاکستانی بھی واپس نہیں آئے ،قائمہ کمیٹی داخلہ کوبریفنگ

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ 2025 کے دوران ویزوں کے غیر قانونی استعمال کے 10ہزار سے زائد واقعات سامنے آئے ہیں۔بنگلہ دیش میں بھی پاکستانیوں کیلئے سٹڈی ویزا محدود ہو گئی ،کمیٹی کا اجلاس ایم این اے راجہ خرم نواز کی صدارت میں ہوا جس میں ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے فراد پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ۔‘قبرص میں طلبہ انگریزی کورسز کے بہانے جاتے ہیں اور بعد ازاں وہاں سے یورپ منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ بنگلہ دیش نے بھی پاکستانیوں کے لیے اپنی سٹڈی ویزا پالیسی محدود کر دی ۔ یورپی یونین سمیت متعدد ممالک نے اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ معاملہ اٹھایا ہے ۔ دبئی، کمبوڈیا اور ملائشیا کے راستے پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچانے کا ایک منظم نیٹ ورک سرگرم ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 580 پاکستانی بیلاروس گئے لیکن واپس نہیں آئے جبکہ برطانیہ میں 10 ہزار پاکستانیوں نے سٹوڈنٹ ویزے پر جانے کے بعد سیاسی پناہ کی درخواست دے دی۔ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق ملائشیا اور ازبکستان کے ذریعے انسانی سمگلنگ کا نیا روٹ بھی سامنے آیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران دستاویزات کے بغیر بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے 39 ہزار 786 افراد کو آف لوڈ کیا گیا جبکہ سٹاپ لسٹ اور انٹرپول الرٹس کی بنیاد پر 3 ہزار سے زائد افراد کو سفر سے روکا گیا۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال 7 ہزار پاکستانی آذربائیجان وزٹ ویزے پر گئے اور واپس نہیں آئے جبکہ لیبیا سے 175 گرفتار پاکستانیوں کو واپس لایا گیا ، منظم بھکاریوں میں 75 فیصد اور جعلی دستاویزات کے استعمال میں 31 فیصد کمی آئی۔وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان سے غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی آئی اور اس کی تصدیق یورپ اور امریکا نے بھی کی ۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 80 سال پرانے قوانین لازماً برے نہیں ہوتے ۔ دنیا کے کئی ممالک میں پرانے قوانین آج بھی مؤثر انداز میں نافذ ہیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی اور نئی ضروریات کے پیش نظر قوانین میں تبدیلی ناگزیر ہے ۔وزیر قانون نے بتایا کہ 1971 اور 1991 کے بعد بڑے پیمانے پر قانونی ترامیم نہیں ہوئیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں