طالبان کو دہشتگردوں کیخلاف کارروائی سے اقتدار کھونے کا ڈر
را اور دیگر قوتیں بھی پاکستان کو معاشی طورپر نقصان پہنچانے کے درپے
(تجزیہ: سلمان غنی)
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے افغان طالبان پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف ٹھوس اقدامات کے لئے دباؤ کا عمل ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے لئے دہشت گردی کا عمل اور رحجان ایک سنجیدہ عمل ہے اور وہ کسی قیمت پر اسے اپنی سرزمین پر پنپنے نہ دینے کا عزم کئے ہوئے ہے لیکن بنیادی اور بڑا مسئلہ یہی ہے کہ افغان طالبان اب تک اس حوالے سے ممکنہ اقدامات نہیں کر پا رہے ،الٹا دہشت گردی اور دہشت گرد ان کی سرزمین پر منظم نظر آ رہے ہیں اور ان کی یہ سرگرمیاں خود پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی اس رحجان کو فروغ دے رہی ہیں جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا،جہاں تک افغان انتظامیہ کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف اقدامات نہ کرنے کا سوال ہے تو اس کی بڑی وجہ خود افغان انتظامیہ میں اس ضمن میں یکسوئی اور سنجیدگی کا فقدان ہے اور اسے اپنی سرزمین پر صرف ٹی ٹی پی ہی نہیں بلکہ داعش خراسان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں اور گروپوں کا سامنا ہے جس سے اس کی سکیورٹی ترجیحات تقسیم ہوتی ہیں اور ویسے بھی ایک نمائندہ حکومت نہ ہونے کے باعث وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن کے ضمن میں عدم تحفظ کا شکار ہے۔
وہ خود کو اس کا اہل نہیں سمجھتی کہ دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کر کے وہ اپنے لئے اپنے اندر سے نئے محاذ کھڑے کر لیں اور یہی ان کا وہ مجرمانہ طرز عمل ہے خود ان کی اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے پاک نہیں ہونے دے رہا ۔ماہرین کے نزدیک یہ مسئلہ صرف سکیورٹی کا ہی نہیں بلکہ سیاسی سفارتی اور سرحدی نظام کا بھی ہے جس کے لئے مسلسل رابطوں اور ممکنہ اقدامات کی ضرورت ہے ،ان کے خیال میں افغانستان میں استحکام اور معاشی بہتری کے بغیر دہشت گردوں کے خلاف مکمل کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں بنے گا لیکن افغانستان میں استحکام ناپید نظر آتا ہے اور خود افغان سرزمین پر افغان طالبان کی پوری طرف رٹ بھی نظر نہیں آتی ویسے بھی خود طالبان کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو انہیں یہاں کا انتظامی بندوبست ہی اس بنا پر ملا تھا کہ وہ نہ صرف خود دہشت گردی میں ملوث ہوں گے بلکہ افغان سرزمین اور یہاں سے ہونے والے دہشت گردی کا ازالہ یقینی بنائیں گے لیکن اگر عملاً دیکھا جائے تو طالبان خود دوحہ معاہدے پر ہی کاربند نظر نہیں آ رہے۔
بلکہ طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں کے مقابلہ میں دہشت گردی کئی گنا زیادہ بڑھی اور سرحد پار بھی افغان سرزمین سے دہشت گردی کے عمل بارے شکایات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ،افغان سرزمین بارے خطرات اور خدشات کا اظہار صرف پاکستان نہیں چین کی جانب سے بھی ہو رہا ہے ،جبکہ چین ایران اور ترکیہ میں ہونے والا مشاورتی عمل اور افغان انتظامیہ سے ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز نہیں بن رہے ،افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور بعض اور قوتوں کا بھی بڑا کردار ہے کیونکہ وہ کسی طرح یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان معاشی حوالے سے خود انحصاری کی منزل پر پہنچے ۔بلاشبہ پاکستان کے تحفظات اس حوالے سے درست ہیں لیکن ان کا حل محض دباؤ یا الزامات نہیں بلکہ اس کے حل کے لئے پا کستان اور افغانستان دونوں کو ذمہ داری لینا ہوگی۔