پنجاب اسمبلی:وزراء کی عدم موجودگی پر سپیکر کا شدیداظہار برہمی

پنجاب اسمبلی:وزراء کی عدم موجودگی پر سپیکر کا شدیداظہار برہمی

8 اضلاع اب بھی یونیورسٹیوں سے محروم ، 37 نئے سب کیمپس بنا رہے :وزیر تعلیم ہیلمٹ پالیسی، گندم خریداری پر بھی بحث، 2قراردادیں منظور، اجلاس آج پھر ہوگا

 لاہور (سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں تعلیمی مسائل، جامعات کے قیام، ہیلمٹ پالیسی ،کسانوں سے گندم کی خریداری سمیت عوامی فلاح کے متعدد معاملات زیر بحث آئے جبکہ اجلاس کے اختتام پر وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز کی عدم موجودگی پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے شدید برہمی کا اظہار کرتے کہا کہ ایوان میں ارکان عوامی مسائل اٹھا رہے ہیں مگر انہیں سننے کیلئے کوئی وزیر موجود ہے نہ پارلیمانی سیکرٹری ،میں کوئی ڈاک خانہ نہیں ہوں ،حاضری یقینی بنانے کیلئے مراسلہ ارسال کیا جائے ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی صدارت میں شروع ہوا۔

محکمہ ہائر ایجوکیشن سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ پنجاب بھر کے ساڑھے آٹھ سو سے زائد کالج مختلف نوعیت کے مسائل سے دوچار ہیں ، پنجاب کے 8 اضلاع اب بھی یونیورسٹیوں سے محروم ہیں، تاہم راجن پور میں دو سب کیمپس قائم کئے جا رہے ہیں،محکمہ ہائر ایجوکیشن 40 اضلاع میں 37 نئے سب کیمپس بنانے جا رہا ہے ۔ اجلاس کے دوران حکومتی رکن احسن رضا اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر ضلع قصور کے ایک محلے ‘‘کوٹ قتل گڑھی’’کا نام تبدیل کرکے حضرت بابا جی سید شیر علی شاہ بخاری کے نام سے منسوب کرنے ،عیدالاضحیٰ کے موقع پر مثالی صفائی ستھرائی کے انتظامات پر حکومت پنجاب کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد بھی منظور کر لی۔اجلاس آج دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیاگیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں