روزانہ 40ارب ٹیکس جمع، ممبر ایف بی آر ، ادارہ میں کرپشن کا اعتراف

 روزانہ 40ارب ٹیکس جمع، ممبر ایف بی آر ، ادارہ میں کرپشن کا اعتراف

پوائنٹ آف سیلز اہداف میں ناکامی، صرف 37ہزار ریٹیلرز رجسٹر ہوسکے ، حامد عتیق خزانہ کمیٹی کا اجلاس،50لاکھ کسٹم جرمانہ کی سفارش فنانس بل میں شامل کرنے پر اتفاق

  اسلام آباد (مدثر علی رانا) سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں ممبر ایف بی آر حامد عتیق سرور نے انکشاف کیا کہ پوائنٹ آف سیلز محض 37ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ پوائنٹ آف سیلز کے اہداف میں ناکامی کے بعد حکومت نے آئندہ مالی سال سے رجسٹریشن کا طریقہ کار بدل دیا ہے ۔ سیلز ٹیکس کی شق 43A کو ذیلی شق میں تبدیل کرتے ہوئے سالانہ 20 کروڑ روپے سیلز کرنے والے بڑے ریٹیلرز کے لیے پی او ایس رجسٹریشن میں ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کی شرط ختم کر دی گئی جس کے باعث پہلے سے رجسٹرڈ تقریباً 500 ریٹیلرز پی او ایس سسٹم سے نکل جائیں گے جبکہ آئندہ مالی سال ایک لاکھ ٹیئر ون ریٹیلرز رجسٹرڈ کرنے کا ہدف مختص کیا گیا ہے ۔ حامد عتیق سرور نے ادارے میں کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے میں تاحال کرپشن موجود ہے لیکن تمام ٹیکسز پارلیمنٹ کی منظوری سے عائد ہیں، اس لیے ٹیکس کلیکٹنگ اتھارٹی کو ٹارگٹ نہ کیا جائے ۔ ایف بی آر روزانہ تقریباً 40 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرتا ہے جبکہ ادارے کے ملازمین کی کپیسٹی بلڈنگ ناگزیر ہے ۔سیلز ٹیکس کی شق 46 کے تحت فنانس بل میں شامل کیا گیا کہ سیلز ٹیکس تھرڈ شیڈول میں شامل آئٹمز کی پرائسز تھرڈ پارٹی یا ادارہ شماریات کرے گا جس پر ٹیکس اکٹھا کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ایف بی آر کو اختیار مل گیا کہ پی او ایس میں رجسٹرڈ غیر فعال ریٹیلرز کی ڈی رجسٹریشن کر دی جائے گی۔حکومت نے آئندہ مالی سال سے تمام کاروبار پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے تحت آؤٹ پٹ کا 10 فیصد ایڈوانس ٹیکس جمع کرانے کی شق شامل کر دی ہے ۔ یہ ٹیکس ویلیو ایڈیشن کے تحت کم سے کم ویلیو ایڈڈ پر اکٹھا کیا جائے گا اور باقی ماندہ ٹیکس بعد میں حاصل کیا جا سکے گا۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ کم سے کم ویلیو ایڈیشن 10 فیصد سے کم رہی تو سال کے اختتام پر ریفنڈ ادائیگی کی جائے گی۔سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے فورم کو بتایا کہ کیش لیکویڈیٹی بہتر ہونے سے صوبوں کو این ایف سی شیئرز ٹرانسفر میں رکاوٹ نہیں ہو گی۔کسٹمز ایکٹ میں ترمیم کی تجویز کے تحت پورٹ پر ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے تاخیر کیے جانے پر جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی جس پر کمیٹی نے رائے دی کہ ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنا اینٹی آپریٹرز ہے جس کے بعد ایف بی آر نے 50 لاکھ جرمانے کی سفارش فنانس بل میں شامل کرنے پر اتفاق کیا۔ ایف بی آر حکام کے مطابق درآمدکنندہ کی جانب سے تاخیر نہ ہونے کی صورت میں اور ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے تاخیر کی صورت میں یہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

فنانس بل میں کسٹمز ایکٹ کی شق 83 کے سیکشن 153(1) میں شامل کیا گیا کہ مشکوک یا نان کسٹم پیڈ گاڑی پولیس سے لے کر ایف بی آر کی کسٹڈی میں دی جائے گی۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد فوراً وہیکل ایف بی آر کو فراہم کر دی جائے گی۔کسٹمز ایکٹ میں ترمیم کی تجویز دی گئی کہ آئندہ مالی سال سے ایف بی آر کے پاس ویئرہاؤسز کی سہولت محدود ہونے کے باعث تھرڈ پارٹی سے ویئرہاؤس ہائر کیا جائے گا، جہاں آکشن ہو سکے گی اور آکشن سے قبل تمام سامان نجی ویئرہاؤس منتقل کر دیا جائے گا۔ ویئرہاؤس کو پیپرا رولز کے تحت ہائر کیا جائے گا۔یہ بھی ترمیم کی گئی کہ سپیشل جج کے پاس کسٹمز کیس کی صورت میں ملزم کے کیش اکاؤنٹ اور اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور تھرڈ پارٹی سے قابل آمدن اثاثے بھی منجمد کیے جا سکیں گے ۔ اس کے علاوہ درآمدکنندگان کی جانب سے گڈز ڈیکلریشن ہونے کے 20 دن میں پورٹ خالی نہ کرنے کی صورت میں اختیار وفاقی حکومت کی بجائے ایف بی آر کو دینے کی تجویز شامل کی جا رہی ہے جبکہ کمیٹی نے بعض اختیارات منسٹر انچارج کو دینے پر اتفاق کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں