41 سال پرانے قتل کیس میں عمر قید پانیوالا باعزت بری

 41 سال پرانے قتل کیس میں عمر قید پانیوالا باعزت بری

لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا عمردین کو سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا محض شک پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی ،14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ

لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے 41 سال پرانے دہرے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے تاج دین کو باعزت بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جسٹس امجد رفیق نے قرار دیا کہ استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا اور میڈیکل شواہد بھی مو ثر انداز میں پیش نہیں کئے جا سکے ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے ملزم تاج دین کی اپیل منظور کرتے ہوئے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، فیصلے کے مطابق ملزم کے خلاف 28 اکتوبر 1985 کو ضلع رحیم یار خان میں دو افراد، ریاض الدین اور اختر علی کے قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے 2017 میں جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی ، جس کے خلاف 2018 میں لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ جسٹس امجد رفیق نے میڈیکل افسر کی عدالت میں عدم پیشی کو بھی استغاثہ کے لیے نقصان دہ قرار دیا، فیصلے میں کہا گیا کہ گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات پائے گئے جبکہ ان کی جائے وقوعہ پر موجودگی اور پیش کردہ کہانی بھی مشکوک ثابت ہوئی،عدالت عالیہ نے واضح کیا کہ محض شک کی بنیاد پر کسی ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی اور فائدئہ شک ملزم کا قانونی حق ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سزا برقرار رکھنے کے لیے مضبوط اور ناقابل تردید شواہد کا ہونا ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں