ہانیہ عدیل کا پوسٹمارٹم ، جسم پر 11 زخم ،زیادہ خون بہنے سے موت
چکوال واقعہ میں بچی کو گولیاں لگیں،جسم بری طرح متاثر،ران کی ہڈی ٹوٹ گئی ملزم اہلکارجیل میں بند،جوڈیشل انکوائری کی درخواست مرکزی کیس سے منسلک
چکوال ،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،کورٹ رپورٹر)شہر چکوال میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی)کے اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی نو سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی بچی ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ، جس کے مطابق بچی کے جسم پر گولیوں اور دیگر زخموں کے مجموعی طور پر 11 نشانات پائے گئے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گولیوں کے گہرے زخموں کے باعث شدید خون بہنے سے بچی کی موت واقع ہوئی۔پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق ہانیہ عدیل کو متعدد گولیاں لگیں، جن کے نتیجے میں جسم کے مختلف حصے بری طرح متاثر ہوئے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق شدید خون بہنے کے باعث ہائپو وولیمک شاک پیدا ہوا، جس سے دل اور پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچی کی دائیں ران کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی جبکہ گولی لگنے سے دایاں پھیپھڑا بھی شدید متاثر ہوا اور چھاتی میں خون جمع ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ جگر، بڑی اور چھوٹی آنتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچی کی دائیں چھاتی، پیٹ، ران اور بائیں کہنی پر گولیوں کے داخل اور خارج ہونے کے گہرے زخم موجود تھے ۔ ماہرین کے مطابق یہ زخم اس قدر شدید تھے کہ عام حالات میں فوری موت کا سبب بن سکتے تھے ۔ پوسٹ مارٹم کے دوران بچی کے جسم سے گولی کا ایک دھاتی ٹکڑا بھی برآمد ہوا، جسے مزید فرانزک تجزئیے کیلئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ نے خون آلود کپڑے ، ایکس رے اور دیگر شواہد بھی سیل کر کے تفتیشی حکام کے سپرد کر دئیے ہیں۔
یاد رہے کہ 10 جون کو ہانیہ عدیل اپنے خاندان کے ہمراہ چکوال میں ایک کرائے کی گاڑی میں موجود تھیں جب مبینہ طور پر مسلح ڈاکوؤں نے انہیں لوٹنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ایک سی سی ڈی اہلکار نے غلط فہمی میں ڈاکوؤں کے بجائے متاثرہ خاندان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ہانیہ جاں بحق جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور بڑا بھائی زخمی ہو گئے ۔پنجاب پولیس نے واقعے کو ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ واقعے میں ملوث اہلکار کو گرفتار کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے ۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم سے سرکاری اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول اور متاثرہ گاڑی کو فرانزک جانچ کیلئے بھجوا دیا گیا ہے ۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چودھری نے واقعے کی جوڈیشل انکوائری سے متعلق متفرق درخواست کو مرکزی کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت جاری کی ہے ۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نے مو قف اختیار کیا کہ یہ واقعہ سی سی ڈی کی تربیت اور طریقہ کار سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھاتا ہے ، اس لئے تحقیقات میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے ۔ادھر آسٹریلوی حکومت بھی متاثرہ خاندان کو قونصلر معاونت فراہم کر رہی ہے ۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے پاکستانی حکام سے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ حکام کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم آئندہ چند روز میں اپنی حتمی رپورٹ سی سی ڈی کے سربراہ کو پیش کرے گی جبکہ مقدمہ ہانیہ کے والد عدیل احمد کی مدعیت میں درج کر کے مزید کارروائی جاری ہے ۔