سینیٹ:وزرا غائب، قومی اسمبلی میں سینیٹرز پر تنقید کیخلاف احتجاج
سینیٹرز پر تنقید قومی اسمبلی کی پالیسی نہیں ایک فرد کا اظہار خیال تھا ،وفاقی وزیرقانو ن بجٹ میں عام آدمی کیلئے ریلیف نہیں :اپوزیشن ،ترقیاتی منصوبوں میں بہتری آئی،عابد شیر
اسلام آباد (وقائع نگار) سینیٹ اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران وزرا غائب، اپوزیشن ارکان کی شدید تنقید جبکہ قومی اسمبلی میں گزشتہ روز سینیٹر ز پر تنقید کیخلاف احتجاج کیا گیا۔ اجلاس چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہوا۔سینیٹر دنیش کمار نے قومی اسمبلی میں سینیٹرز سے متعلق ریمارکس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں سینیٹرز کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کیے گئے جس کی سخت مذمت کی جاتی ہے ۔ اس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ کسی ادارے کی پالیسی نہیں بلکہ ایک فرد کا اظہارِ خیال تھا، اس سے کسی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے ۔سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ ملک میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو معیشت میں فعال کردار دینے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔عابد شیر علی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں بہتری آئی، تاہم بعض تعلیمی اداروں اور منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اعظم خان سواتی نے کہا کہ موجودہ بجٹ عوام دوست نہیں بلکہ عوام دشمن ہے اور اس میں عام آدمی کے لیے ریلیف شامل نہیں کیا گیا۔جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر مولانا عبد الواسع نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ان کا جائز حق نہیں مل رہا اور صوبائی وسائل میں کٹوتی غیر آئینی عمل ہے ۔ فوزیہ ارشد نے کہا کہ ایوان میں بجٹ پر بحث ہو رہی ہے لیکن متعلقہ وزرا موجود نہیں جس سے پارلیمانی سنجیدگی متاثر ہو رہی ہے ۔ انہوں نے بجٹ کو ناکافی اور غیر مؤثر قرار دیا۔سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور سرائیکی خطہ مسلسل ترقیاتی نظراندازی کا شکار ہے جبکہ حادثات پر حکومتی ردعمل بھی ناکافی ہوتا ہے۔