امریکا ایران ایم او یو میڈیا لیکس پر مبنی لگتا ہے :جوہر سلیم
معاملات اگلے مذاکرات میں طے ہونگے ،پاکستان کا اہم کردار :سابق سفیر اصل مسئلہ ایران کے جوہری ہتھیار ہیں : ’’دنیا مہربخاری کیساتھ‘‘میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق سفیر جوہر سلیم نے کہا ہے کہ جو ایم او یو (مفاہمتی یادداشت)اس وقت میڈیا میں سامنے آیا ہے ، امید ہے کہ وہ فائدہ مند ہوگا، تاہم یہ معاہدہ انہیں اصل دستاویز معلوم نہیں ہوتا اور یہ زیادہ تر میڈیا لیکس پر مبنی لگتا ہے ۔ ان کے مطابق مختلف چینلز سے ایک جیسی اور ملتی جلتی معلومات سامنے آ رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں ایران کے مطالبات کی طرف زیادہ جھکاؤ موجود ہے ۔جوہر سلیم نے دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر کھولنے کا ذکر کیا جا رہا ہے ، جبکہ امریکا کی طرف سے بھی ایران کو کچھ ریلیف دیا جا رہا ہے ، جن میں پابندیوں میں نرمی، تیل کی برآمدات اور تجارت میں سہولت شامل ہیں، مگر یہ تمام اقدامات بھی عارضی نوعیت کے ہیں۔
ان کے مطابق اگر امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرتا ہے تو وہ بھی عارضی ہوگی، اور اصل معاملات اگلے مذاکرات میں طے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کا ہے ، جس پر امریکی مؤقف کو ایران کو تسلیم کرنا ہوگا، ورنہ یہ پورا ایم او یو غیر موثر ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ایک عبوری معاہدہ ہے ۔جوہر سلیم نے کہا کہ اگر ایران امریکی مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا تو یہ معاہدہ خود بخود ختم بھی ہو سکتا ہے ۔ ان کے مطابق بظاہر ایران کو کچھ ابتدائی فوائد ملے ہیں، لیکن حقیقت میں صورتِ حال اتنی یکطرفہ نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی درست ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ جوہری معاملہ بعد میں زیرِ بحث آئے جبکہ پہلے دیگر امور طے کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے اور اس سے ’’ون ون صورتحال‘‘ پیدا ہونے کا امکان ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا نے ایران سے یورینیم کی افزودگی صفر فیصد کرنے اور جوہری بم نہ بنانے کا مطالبہ کیا، جبکہ ایران کے پاس 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود تھی جو امریکا اور اسرائیل دونوں کے لیے باعثِ تشویش بنی۔ان کے مطابق پاکستان نے اس پورے معاملے میں اہم کردار ادا کیا ہے ، اور آئندہ دنوں میں بھی پاکستان کی سفارتی کوششیں اہم رہیں گی کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان بداعتمادی اب بھی موجود ہے ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں طرف سخت گیر عناصر موجود ہیں جو صورتحال کو بگاڑنا چاہتے ہیں، جبکہ اسرائیل کی خواہش ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں اور یہ عمل ختم ہو۔ ان کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ اس عمل کو کامیابی سے حتمی معاہدے تک پہنچایا جائے ۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئندہ مذاکرات میں اس کا فیصلہ اہم ہوگا، اور ایران کے لیے جنگ سے پہلے کی صورتحال بحال کرنا آسان نہیں ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا معاہدہ ہو جس میں ایران تجارتی بحری جہازوں کو نہ روکے۔