پی آئی اے کو 15 سالہ ٹیکس چھوٹ کی تجویز پر خزانہ کمیٹی کا شدید اعتراض منظوری موخر
تمام ایئرلائنز کیلئے یکساں پالیسی اپنانی چاہیے :کمیٹی ارکان،ٹیکس چھوٹ آئی ایم ایف کی منظوری سے شامل کی :سیکرٹری خزانہ سوشل میڈیا آمدنی پر 5فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لگانے ، انکم ٹیکس ریٹرنز صرف الیکٹرانک ذرائع سے جمع کرانے کی تجویز منظور
اسلام آباد (مدثر علی رانا) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں پی آئی اے کی نجکاری کیلئے طیاروں اور دیگر نو اشیا کی درآمد یا لیز پر 15سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز پر حکومت کو سخت سوالات اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، حکومتی مؤقف، نجکاری کمیشن کی وضاحتوں اور ایف بی آر کے دلائل کے باوجود قائمہ کمیٹی خزانہ ارکان تجویز سے مطمئن نہ ہو سکے اور ٹیکس چھوٹ کی اجازت نہ دیتے ہوئے معاملہ مزید غور کیلئے مؤخر کر دیا گیا۔ سید نوید قمر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اجلاس میں فنانس بل کی مختلف شقوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی ارکان نے یک زبان ہو کر اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ اگر حکومت واقعی ملکی فضائی صنعت کی ترقی چاہتی ہے تو ایسی مراعات تمام ایئرلائنز کو دی جانی چاہئیں نہ کہ صرف ایک مخصوص ادارے کو، ارکان نے سوال کیا کہ نجکاری کے عمل کو کامیاب بنانے کے نام پر دیگر نجی ایئرلائنز کو نقصان پہنچانا کس حد تک درست ہے ۔
پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ایک ایسی مارکیٹ میں جہاں متعدد ایئرلائنز کام کر رہی ہیں صرف پی آئی اے کو 15 سالہ ٹیکس چھوٹ دینا مسابقتی اصولوں کیخلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے دیگر ایئرلائنز غیر مساوی صورتحال کا شکار ہوں گی اور حکومت دراصل ایک ادارے کو خصوصی رعایت دے کر مارکیٹ کا توازن بگاڑ رہی ہے ۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن جواد حنیف خان نے بھی اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت فضائی شعبے کو فروغ دینا چاہتی ہے تو تمام ایئرلائنز کیلئے یکساں پالیسی اختیار کی جانی چاہیے ۔ سیکر ٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بتایا کہ پی آئی اے کیلئے مجوزہ ٹیکس چھوٹ آئی ایم ایف کی منظوری سے شامل کی گئی اور اس رعایت کیلئے حکومت کو سخت تگ و دو کرنا پڑی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ تجویز کوپورے شعبے تک توسیع دینے کی کوشش کی گئی تو حکومت کو دوبارہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنا پڑ سکتے ہیں جس سے فنانس بل کی منظوری اور دیگر مالیاتی معاملات متاثر ہو سکتے ہیں۔
کمیٹی ارکان حکومتی وضاحت سے مطمئن نہ ہوئے تو انہوں نے فوری طور پر سیکر ٹری نجکاری عثمان اختر باجوہ کو طلب کر لیا۔ سیکرٹری نجکاری عثمان باجوہ نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں حصہ لینے والے ممکنہ سرمایہ کاروں اور بولی دہندگان نے سیلز پرچیز ایگریمنٹ کے تحت مختلف مراعات کا مطالبہ کیا تھا جن میں طیاروں اور دیگر نو اشیاء پر ٹیکس چھوٹ بھی شامل تھی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے میں کہیں بھی یہ تحریر نہیں کہ یہ رعایت صرف پی آئی اے کیلئے مخصوص ہوگی۔ ان کے مطابق سرمایہ کاروں کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ نجکاری کے بعد کمپنی کو آپریشنل استحکام اور کاروباری ترقی کیلئے مناسب مراعات فراہم کی جائیں جس کے بعد اجلاس میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔متعدد ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر معاہدے میں پی آئی اے کیلئے خصوصی رعایت کی کوئی شرط موجود نہیں تو پھر فنانس بل میں صرف پی آئی اے کا نام شامل کرکے 15 سالہ ٹیکس استثنیٰ کیوں دیا جا رہا ہے ۔
ارکان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ایک مخصوص ادارے کو غیر معمولی فائدہ پہنچانا چاہتی ہے جبکہ باقی ایئرلائنز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔سیکریٹری نجکاری نے خبردار کیا کہ اگر کمیٹی اس مراعات کو واپس لے لیتی ہے تو پی آئی اے کی نجکاری کا پورا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور ممکنہ سرمایہ کار اپنے فیصلوں پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کے عمل کی کامیابی کیلئے بعض مراعات ضروری سمجھی جاتی ہیں اور حکومت نے انہی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تجویز تیار کی ہے ۔اجلاس کے دوران ایف بی آر کے رکن ڈاکٹر حمید عتیق سرور نے بھی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے ملک کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ہے جو اس وقت 146 ملکی اور بین الاقوامی روٹس پر آپریشنز چلا رہی ہے جبکہ دیگر ایئرلائنز محدود تعداد میں پروازیں چلاتی ہیں۔
ان کیمطابق پی آئی اے کی آپریشنل ضروریات اور قومی اہمیت کے پیش نظر اسے خصوصی مراعات دی جا رہی ہیں تاکہ نجکاری کے بعد ادارہ مزید مستحکم ہو سکے ۔ تاہم کمیٹی کے ارکان نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ کسی ادارے کے بڑے ہونے کی بنیاد پر اسے خصوصی ٹیکس مراعات دینا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی چاہئیں جو پورے شعبے کیلئے فائدہ مند ہوں۔کافی بحث اور سوالات کے بعد کمیٹی نے اس معاملے پر حتمی فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے مزید تفصیلات طلب کر لیں اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اس تجویز کے قانونی، مالیاتی اور مسابقتی اثرات کے بارے میں جامع وضاحت پیش کرے ۔
دوسری جانب قائمہ کمیٹی نے فنانس بل کی متعدد دیگر تجاویز کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی۔ اسی طرح تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کرنے کی تجویز کو بھی کمیٹی کی حمایت حاصل ہوئی۔ کمیٹی نے لائف انشورنس پالیسی ہولڈرز کی جانب سے 4 سال کے اندر حاصل کیے جانے والے منافع پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کیلئے سیکشن 99-بی کے تحت خصوصی ٹیکس نظام کی منظوری دی گئی ، جس سے صرف وہ ریٹیلرز فائدہ اٹھا سکیں گے جن کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے تک محدود ہو۔اجلاس میں ایف بی آر کو یہ ہدایت بھی جاری کی گئی کہ آزادانہ جانچ پڑتال کیلئے انڈیپنڈنٹ کیس سکرُوٹنی کمیٹی کے ارکان کی تقرری کیلئے ایک پینل تشکیل دیا جائے ۔
کمیٹی کی سربراہی سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت یا کسی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے سپرد کی جائے گی تاکہ ٹیکس معاملات کی شفاف نگرانی یقینی بنائی جا سکے ۔ قائمہ کمیٹی نے برآمد کنندگان پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز کی توثیق بھی کر دی۔ اس کے علاوہ براؤن فیلڈ ریفائنریز کیلئے مخصوص مشینری اور آلات کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دینے کی منظوری دی گئی۔ ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس رعایت کے نتیجے میں تقریباً 70 کروڑ ڈالر کی نئی سرمایہ کاری متوقع ہے اور یہ سہولت وزارت پیٹرولیم کی تصدیق کے بعد فراہم کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے کو 15 سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز پر پیدا ہونے والا اختلاف آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان اس معاملے کو مساوی کاروباری مواقع اور آزاد مسابقت کے اصولوں سے جوڑ رہے ہیں۔ ایف بی آر نے مینوئل طریقہ کار سے ریٹرنز فائل کرنا بند کر دیا۔ انکم ٹیکس ریٹرنز صرف الیکٹرانک ذرائع سے جمع کرانے کی تجویز منظور کر لی گئی ۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ گزشتہ سال صرف 37 ہزار ریٹرنز مینوئل طریقے سے فائل ہوئی ہیں جن کو بھی آئندہ مالی سال سے ختم کیا جا رہا ہے ۔ حکومت نے فنانس بل میں متعارف کرایا کہ مالک کی موت پر وراثتی ملنے والی جائیداد پر کیپٹل گین ٹیکس جمع کرانا ہو گا جس سے پراپرٹی ٹرانسفر ہو گی اور جب فروخت کی جائے گی اس کے درمیان ملنے والے منافع پر کیپٹل گین ٹیکس دینا ہو گا۔ فنانس بل میں 7E ڈیمڈ ٹیکس کو بھی ختم کر دیا گیا۔