سندھ ریگولرائزیشن ایکٹ کے نفاذ سے ہی سینیارٹی لاگو:سپریم کورٹ

 سندھ ریگولرائزیشن ایکٹ کے نفاذ سے ہی سینیارٹی لاگو:سپریم کورٹ

سروس ٹریبونل کا 27جنوری 2025کا فیصلہ کالعدم، درخواستگزاروں کی اپیلیں منظور سٹاک ان ٹریڈ کی تعریف جامد نہیں، انحصار استعمال و نوعیت پر ہوگا:تحریری تفصیلی فیصلے

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر، اے پی پی)سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کے محکمہ زراعت کے کنٹریکٹ بنیاد پر تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے سینیارٹی تنازع میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ سندھ ریگولرائزیشن ایکٹ 2013 کے تحت ریگولر ملازمین کی سینیارٹی 25 مارچ 2013 یعنی قانون کے نفاذ کی تاریخ سے شمار کی جائے گی اور سندھ سروس ٹریبونل کا 27 جنوری 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزاروں کی اپیلیں منظور کر لیں۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ کے تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق درخواست گزار 2006 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کنٹریکٹ بنیاد پر تعینات ہوئے اور ایکٹ 2013 کے تحت ان کی ملازمتیں ریگولر کی گئیں۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایکٹ 2013 کی دفعہ 3 میں شامل ڈیمنگ کلازاور نان آبسٹینٹ کلاز کے تحت ایسے ملازمین کو قانون نفاذ کے دن سے ہی باقاعدہ تعینات تصور کیا جائے گا۔ اس قانونی تصور کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے ٹیکس قوانین کے مقدمے میں یہ اصول واضح کر دیا کہ سٹاک ان ٹریڈ کی تعریف کسی بھی صورت جامد نہیں بلکہ اس کا انحصار اس کے تجارتی استعمال، نوعیت اور قانونی سیاق و سباق پر ہوگا۔ جسٹس عقیل احمد عباسی کی زیر سربراہی لارجر بینچ نے اپنے تحریری تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ صنعتی یونٹس میں نصب جنریٹرز جو پیداوار کا عمل چلانے کیلئے بطور کیپٹل اثاثہ استعمال ہوتے ہیں لازمی سٹاک ان ٹریڈ کے زمرے میں نہیں آتے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں