امریکا ایرانی پاسداران انقلاب سے براہ راست رابطہ کریگا
ایرانی و امریکی فوجی حکام دوحہ میں ملاقاتیں کرینگے ،امارات بھی ایرانی حکام کیساتھ ایسے مذاکرات کر رہا جو پہلے کبھی نہیں ہوئے :وینس،گرلز سکول پر حملے کے ذمے دار کا تعین شاید کبھی نہ ہو سکے :ٹرمپ ہرمز میں نیا راستہ ناقابل قبول:ایران،عمان کے شمال میں کارگو جہاز پر پروجیکٹائل حملہ ، خلیجی ممالک ٹول یا فیس کے حق میں نہیں:امریکی وزیر خارجہ،لبنان میں پھراسرائیلی حملہ،3شہید،مذاکرات جاری
تہران ، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا ایرانی پاسداران انقلاب کیساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرے گا،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا امریکانے کشیدگی کم کرنے کیلئے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ایک براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔اس انتظام کے تحت ایرانی اور امریکی فوجی حکام دوحہ میں ملاقاتیں کریں گے جہاں وہ باہمی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے ۔انھوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے ، ہم پاسداران انقلاب کا ایک نمائندہ دوحہ بھیج دیتے ہیں، جو امریکی سنٹرل کمانڈ کے ایک اہلکار کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرے گا اور اسی طرح ہم بہت سے تنازعات حل کریں گے ۔جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے ساتھ ایسے رابطے قائم کیے ہیں، جو اس سے پہلے موجود نہیں تھے ، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست بات چیت بھی شامل ہے ۔ان کے مطابق متحدہ عرب امارات ایرانی حکام کے ساتھ ایسے مذاکرات کر رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوئے ، جن میں آئی آر جی سی کے ساتھ مختلف نوعیت کی معاشی مراعات پر بات چیت بھی شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایران کے گرلز سکول پر ہونے والے مہلک حملے کے ذمے دار کا تعین شاید کبھی نہ ہو سکے ، کیونکہ اس وقت پورے علاقے میں میزائلوں کا تبادلہ جاری تھا اور حالات انتہائی پیچیدہ تھے ۔ جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوس ناک تھا۔کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ ہمارا میزائل تھا، لیکن ممکن ہے ایسا نہ ہو، میں نے اب تک ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو مجھے یہ یقین دلائے کہ یہ حملہ ہماری جانب سے کیا گیا تھا، میرا نہیں خیال کہ ہم اس کے ذمے دار تھے ۔واضح رہے کہ مذکورہ حملہ 28 فروری کو جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک گرلز سکول پر ہوا تھا، جس میں 175 سے زائد طالبات اور اساتذہ شہید ہوئے تھے ۔ادھر عمان کے شمال میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک کارگو جہاز کے سٹار بورڈ (دائیں حصے )کو نامعلوم نوعیت کے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے ، جس سے جہاز کے برج کو نقصان پہنچا ہے ، واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے ۔ایران نے آبنائے ہرمز میں نئے راستے کے اعلان کو ناقابل قبول قراردیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کیلئے ایک نئے راستے کا اعلان ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی معلومات یا رابطہ کاری کے بغیر کیا گیا، جو کہ ناقابل قبول اور انتہائی خطرناک ہے ۔بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے صرف وہی راستہ استعمال کرنے کی اجازت ہے جس کا اعلان ایران نے کیا ہے ، جہازوں پر لازم ہے کہ وہ چینل 16 کے ذریعے اور ایرانی فورسز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ہی سفر کریں۔واضح رہے کہ عمان نے حالیہ دنوں میں بحری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، یہ اعلان ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے عمان کے دورے کے بعد سامنے آیا، جہاں انھوں نے عباس عراقچی کے ہمراہ سلطانِ عمان سے آبنائے ہرمز کی صورتحال سمیت دیگر امور پر بات چیت کی تھی۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاسداران انقلاب کا حالیہ سخت ردعمل دراصل عمان کی جانب سے اس نئے راستے کے یکطرفہ اعلان کے خلاف ہے ۔پاسداران انقلاب کے سخت بیان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفون پر اہم رابطہ ہوا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی نے گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک کی تازہ صورتحال اور 60 روزہ عبوری انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔عباس عراقچی کا سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا،دونوں وزرائے خارجہ نے حالیہ علاقائی صورتحال، مکالمے اور سفارتی حل کی اہمیت پر بات کی جس سے خطے کے تمام ممالک اور عوام کے مشترکہ مفادات حاصل ہو سکیں۔سعودی عرب نے امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے جانے کے معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ادھر خلیج تعاون کونسل نے بحرین میں ہونے والے اجلاس میں، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے ، آبنائے ہرمز کے بحران پر تفصیلی غور کیا۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جی سی سی کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ہماری ملاقات بہت مفید رہی،خلیجی ممالک آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کے ٹول یا فیس کے حق میں بالکل نہیں ہیں،معاہدے میں خلیجی اتحادیوں کا تحفظ بھی شامل ہوگا۔
انہوں نے کہا ہم آبنائے ہرمز کو کسی ایک ملک کی ملکیت کے طور پر قبول نہیں کرینگے ،ایران کی جانب سے دہشتگردوں کی حمایت ختم کئے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن ممکن نہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ امریکا نے خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کیلئے کسی تعمیر نو فنڈ پر کوئی بات چیت نہیں کی۔ انہوں نے کہا یورپی ممالک کی جانب سے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دینا، براعظم اور امریکا کے درمیان اتحاد کو نقصان پہنچا رہا ہے ، ایران، امریکا کی نسبت یورپ کیلئے زیادہ بڑا خطرہ ہے ۔ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں مارکو روبیو نے کہا امریکا چاہتا ہے کہ یہ معاہدہ کامیاب ہو اور اس کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا، تاہم وہ ہر قیمت پر معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔تکنیکی ٹیمیں 30 جون کو دوبارہ سوئٹزر لینڈ جائیں گی جہاں ایران سے جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق بات کریں گی۔لبنان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ امریکا وہاں ایک پُرامن مستقبل دیکھنا چاہتا ہے ۔
عمان نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں امن کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کیلئے اہم ہے ، بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی راہداری فیس یا ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے شائع کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ تین دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے کل 57 بحری جہاز عملے کے 1100 ارکان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرے ۔جمعرات کی صبح آبنائے ہرمز سے 12 جہاز، بدھ کو 32 اور منگل کو 13 بحری جہاز گزرے ۔جبکہ برسلز میں قائم کمپنی میری ٹائم ٹریکر کے مطابق 23 جون کو 31 بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی ہے ۔ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی دعوے غلط ہیں کہ ایران اپنے غیرمنجمد شدہ اثاثے امریکی زرعی اجناس خریدنے پر خرچ کرے گا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طنزیہ انداز میں مزید لکھا کہ ہم صرف وہی فصل کاٹ رہے ہیں جو آپ نے بوئی ہے ، دہائیوں پر محیط عدم اعتماد۔ یہ قدرتی، وافر اور مقامی پیداوار ہے ۔ لیکن بظاہر امریکا صرف جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا بین، ٹوٹے ہوئے وعدے اور بے بنیاد باتیں ہی برآمد کرتا ہے ۔ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے امریکی حکام کے متضاد بیانات ایرانی عوام کے واشنگٹن پر پہلے سے موجود عدم اعتماد کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا امریکی حکمران حلقوں کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ عہد کے بدلے عہد کے اصول کا تقاضا ہے کہ دونوں فریق اپنی باہمی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور ایسے مفاہیم یا تشریحات سے گریز کریں جو مفاہمتی یادداشت کے متن میں موجود واضح الفاظ سے مکمل طور پر متصادم ہوں۔کسی بھی معاہدے کی کامیابی کیلئے دونوں جانب سے طے شدہ شرائط اور ذمہ داریوں کا احترام ضروری ہے ، بصورتِ دیگر باہمی اعتماد کی بحالی مشکل ہو جائے گی۔
اسماعیل بقائی نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا نیٹو سیکرٹری جنرل کا بیان اس بات کا اعتراف ہے کہ نیٹو نے ایک خودمختار اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کے خلاف غیر قانونی جنگ میں حصہ لیا۔انہوں نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران اٹلی میں موجود امریکی اڈے سے تقریباً 500 امریکی جہازوں نے اڑان بھری تھی،اسی دوران ایک اور یورپی ملک رومانیہ کے دارالحکومت کے ایئر پورٹ پر مسافربردار جہازوں کی پروازیں کم کرنی پڑیں کیونکہ ایئر پورٹ کو بطور ٹینکر کی سہولت کے استعمال کیا جا رہا تھا۔اسماعیل بقائی نے کہا نیٹو اور اس کے رکن ممالک جنھوں نے اس فیصلے میں حصہ لیا انھیں اس کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے ۔دریں اثنا جنوبی لبنان میں زوتار اور میفدعون کے درمیان سڑک پر ایک گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں 3 افراد شہید اور ایک شخص زخمی ہو گیا ۔یہ واقعہ منگل کے بعد تیسرا مہلک حملہ ہے ، جس کے بعد اس ہفتے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد سات ہو گئی ہے ۔
واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات کا پانچواں اور آخری دور جاری ہے ۔امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکا میں جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک ایک مشترکہ مفاہمتی عزم کے قریب پہنچ چکے ہیں۔اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز اس کا ایک فوجی 32 سالہ ماسٹر سارجنٹ باسل سوید جنوبی لبنان میں دوران ڈیوٹی گاڑی حادثے کا شکار ہوکر ہلاک ہوگیا ہے ۔حکام کے مطابق واقعہ اس علاقے میں پیش آیا جہاں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی اور جھڑپوں کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔اسرائیلی حکومتی ترجمان ڈیوڈ مینسر نے کہا ہے کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اس وقت تک اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس نہیں بلائے گا۔ ایرانی پاسداران انقلاب قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی نے اسرائیل کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا لبنانی سرزمین استقامت اور مزاحمت کا میدان ہے ، اسرائیل کو لبنان کے تمام علاقوں سے نکلنا ہوگا، اگر اسرائیل لبنان سے خود نہیں نکلتا تو وہ ذلت اور شکست سے دوچار ہو کر بھاگے گا۔