آبنائے ہرمز تنازع، امریکاایران مفاہمت کیلئے کڑا امتحان

 آبنائے ہرمز تنازع، امریکاایران مفاہمت کیلئے کڑا امتحان

بحری گزرگاہ کی حیثیت پر اختلاف برقرار، مذاکراتی عمل متاثرہونے کا خدشہ

(تجزیہ:سلمان غنی )

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی معاہدے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاقِ رائے کے باوجود آبنائے ہرمز کا معاملہ بدستور ایک بڑے تنازع کے طور پر موجود ہے ۔ خاص طور پر اس آبی گزرگاہ کے استعمال، اس پر ممکنہ ٹیکس یا ٹول اور اس کے انتظامی اختیار کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات واضح ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز ایک ایسا حساس مسئلہ بن چکا ہے جو کسی بھی وقت مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے ۔ معاہدے کے تحت ایران، عمان اور دیگر خلیجی ممالک کی قیادت کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی طریقئہ کار پر مشاورت کرے گا لیکن معاہدے کے بعد جس نوعیت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ 60 روزہ عبوری مدت کے دوران اصل کشمکش ابھی باقی ہے ۔

ایران واضح کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظامات کو ماضی کی حالت پر واپس نہیں لے جایا جا سکتا جبکہ امریکا اصرار کر رہا ہے کہ اس کی بین الاقوامی حیثیت میں کوئی تبدیلی قبول نہیں ہوگی، اسی طرح ایران کی جانب سے مستقبل میں جہازوں سے سروس فیس یا ٹول لینے کے اشارے بھی دیے جا رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ٹرمپ اسے سختی سے مسترد کر رہے ہیں۔ منجمد اثاثوں کے معاملے پر بھی اختلاف برقرار ہے ۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران ان اثاثوں کے استعمال میں بعض شرائط تسلیم کرے ، جبکہ ایران اس حوالے سے آزادانہ فیصلہ سازی پر زور دے رہا ہے ،سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان بظاہر اس بات کے حامی ہیں کہ آبنائے ہرمز کی حیثیت تبدیل نہ ہو اور اسے کسی ایک فریق کے مکمل کنٹرول میں نہ دیا جائے تاہم ان ممالک کے لہجے اور ترجیحات میں فرق موجود ہے ۔ متحدہ عرب امارات ایران کے بارے میں نسبتاً سخت مو قف رکھتا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ ایران کو مزید رعایتیں ملنے سے خطے میں طاقت کا توازن اس کے حق میں جھک سکتا ہے ۔

اس کے برعکس قطر اور عمان نسبتاً نرم مو قف رکھتے ہیں اور سفارتی حل کے حامی دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ بھی آبنائے ہرمز پر نئے ٹیکس یا ٹول کے حامی نہیں۔ایران کیلئے یہ معاملہ صرف اسٹریٹجک نہیں بلکہ معاشی بھی ہے ۔ حالیہ کشیدگی اور جوابی کارروائیوں کے بعد اسے مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے ، اس لئے امکان ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو مستقبل میں ایک ممکنہ ریونیو سورس کے طور پر دیکھ رہا ہو، اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار بھی اہم بن جاتا ہے چونکہ امریکا اور ایران دونوں پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر قبول کر چکے ہیں اور حالیہ مفاہمتی عمل میں بھی اسلام آباد کے کردار کا ذکر سامنے آ چکا ہے ، اس لئے پاکستان اس بحران کو سلجھانے میں ایک بار پھر مو ثر کردار ادا کر سکتا ہے ، پاکستان خود بھی آبنائے ہرمز کی بندش یا کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے کیونکہ توانائی درآمد کرنے والے ممالک میں اس کا شمار ہوتا ہے ۔ اسی لئے پاکستان آبنائے ہرمز کو کھلا، محفوظ اور بین الاقوامی تجارت کیلئے فعال رکھنے کا حامی ہے ۔موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر کوئی درمیانی راستہ نکال سکیں گے یا یہی مسئلہ پورے مفاہمتی عمل کو دوبارہ تعطل کا شکار کر دے گا۔ اگر اس حساس تنازع پر قابلِ عمل اتفاقِ رائے نہ ہو سکا تو خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے تاہم اگر فریقین لچک دکھائیں تو آبنائے ہرمز کا یہی تنازع مستقبل میں ایک بڑے سفارتی بریک تھرو کا راستہ بھی بن سکتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں