قتل کیس، ویڈیو ثبوت پر سزا برقرار رکھی جا سکتی ہے :ہائیکورٹ
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ ویڈیو ثبوت پر ملزموں کی سزا برقرار رکھی جاسکتی ہے ، قتل کے مقدمات میں الیکٹرانک شواہد کو اہمیت حاصل ہے۔۔۔
عدالت نے دوہرے قتل کیس میں عمر قید پانے والے ایک ملزم کی سزا برقرار جبکہ دوسرے کی سزا کم کر کے 15 سال قید کردی ۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق ندیم نے ملزم محمد اعظم اور اعظم نعیم کی اپیلوں پر 30صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا،ملزموں پر 2019 میں گھریلو تنازعے پر 2 افراد کو قتل اور ایک خاتون کو زخمی کرنے کا الزام تھا، ٹرائل کورٹ نے ایک ملزم کو دو بار عمر قید اور ایک ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت عالیہ نے سماعت کے بعد فیصلے میں مزید قرار دیا ہے کہ فرانزک سے تصدیق شدہ ویڈیو کو انسانی گواہی پر ترجیح حاصل ہے ، زخمی گواہ کا بیان بھی ویڈیو اور میڈیکل شواہد سے مطابقت رکھنا ضروری ہے ،صرف زخمی ہونا کسی گواہ کے ہر بیان کو سچا ثابت نہیں کرتا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ میڈیکل شواہد سے متصادم عینی گواہی پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی، غیر مصدقہ تصاویر کو ثبوت کے طور پر نہیں مانا جا سکتا،ویڈیو میں ملزموں کی شناخت تسلیم ہونے کے بعد فوٹو گرامیٹرک ٹیسٹ ضروری نہیں تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محمد اعظم کے خلاف قتل کا الزام ثابت ہونے پر سزا برقرار رکھی جاتی ہے جبکہ اعظم نعیم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے سزا کم کر کے پندرہ برس کی جاتی ہے ،عدالت نے اپیل نمٹا دی۔