ایف بی آر کا کاروباری مقام پر افسران تعیناتی کا آرڈرکالعدم قرار

ایف بی آر کا کاروباری مقام پر افسران تعیناتی کا آرڈرکالعدم قرار

مانیٹرنگ کیلئے تعیناتی ایف بی آرکا اختیار، تاہم قانونی شرائط و پابندیوں کے تابع ہے

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 40-B کے تحت نجی کاروباری ادارے کے  کاروباری مقام پر مانیٹرنگ کے لیے افسران تعینات کرنے کا آفس آرڈر غیر قانونی قرار دیتے  ہوئے کالعدم کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایف بی آر اگرچہ مانیٹرنگ کے لیے افسران تعینات کرنے کا اختیار رکھتا ہے ، تاہم یہ اختیار غیر محدود نہیں اور قانون میں مقررہ شرائط و پابندیوں کے تابع ہے ۔ جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس محمد عثمان علی ہادی پر مشتمل آئینی بینچ نے آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کا جاری کردہ آفس آرڈر قانون اور سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں کے منافی ہے ۔

ان کے مطابق ایف بی آر نے مبینہ غیر قانونی چھاپے سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر سیکشن 40-B کا سہارا لیتے ہوئے درخواست گزار کے کاروباری مقام پر افسران تعینات کیے ۔ مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے پاکستان بیوریجز کیس اور دیگر فیصلوں میں واضح کیا جا چکا ہے کہ مانیٹرنگ کا حکم کسی مخصوص مقصد، وجوہات اور مدت کے تعین کے ساتھ جاری کیا جانا چاہیے ، جبکہ زیر بحث حکم ایک عمومی نوعیت کا تھا جس میں سات مختلف کاروباری اداروں کو ایک ہی حکم میں شامل کیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مزید استدلال کیا کہ ایف بی آر نے نہ تو پیشگی نوٹس دیا، نہ مانیٹرنگ کی مدت مقرر کی اور نہ ہی افسران کی تعیناتی کی مخصوص وجوہات بیان کیں، اس لیے متنازع حکم قانون کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ایف بی آر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ٹیکس چوری یا فراڈ کے شبہ میں کسی بھی رجسٹرڈ شخص کے کاروباری مقام پر مانیٹرنگ کے لیے افسران تعینات کر سکتا ہے ۔ ایف بی آر پر یہ قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ تعیناتی کی وجوہات یا مدت بیان کرے ۔عدالت نے قرار دیا کہ سیکشن 40-B کا متن واضح طور پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ افسران کی تعیناتی شرائط اور پابندیوں کے تابع ہے ، لہٰذا ایف بی آر کے اختیارات لا محدود نہیں ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے پاکستان بیوریجز کیس میں بھی قرار دیا جا چکا ہے کہ مانیٹرنگ کسی مخصوص قانونی مقصد، مثلاً ٹیکس چوری یا فراڈ کی روک تھام، کے لیے ہونی چاہیے اور اس کے لیے مناسب مدت بھی مقرر کرنا ضروری ہے ، جسے بعد میں ضرورت کے مطابق تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ متنازع آفس آرڈر میں نہ مانیٹرنگ کا مقصد بیان کیا گیا، نہ اس کی مدت مقرر کی گئی، نہ ہی وہ شرائط اور پابندیاں درج کی گئیں جن کے تحت افسران درخواست گزار کے کاروباری مقام پر تعینات کیے جا رہے تھے ۔ عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ ایف بی آر نے درخواست کا کوئی جواب بھی جمع نہیں کرایا۔ سماعت کے دوران جب عدالت نے ایف بی آر کے وکیل سے مانیٹرنگ کے مقاصد اور مدت سے متعلق سوالات کیے تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور صرف یہی مؤقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کو مکمل صوابدیدی اختیار حاصل ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ ایسا مؤقف نہ صرف سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 40-B بلکہ اس حوالے سے طے شدہ عدالتی نظائر کی روح کے بھی منافی ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قانون میں موجود حفاظتی تقاضے اسی لیے وضع کیے گئے ہیں تاکہ مانیٹرنگ کے اختیارات کا غلط استعمال نہ ہو اور انہیں غیر محدود اختیارات میں تبدیل نہ کیا جا سکے ۔ ان مشاہدات کی بنیاد پر سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ متنازع آفس آرڈر قانونی نقائص کا حامل ہے ، اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے ۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ایف بی آر کا مذکورہ حکم غیر مؤثر قرار دے دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں