لاہور ہائیکورٹ:غیرملکی کمپنی کو ثالثی ایوارڈقابل عمل قرار

لاہور ہائیکورٹ:غیرملکی کمپنی کو ثالثی ایوارڈقابل عمل قرار

ایل سیزنہ کھلنے کا موقف ذمہ داری سے بری نہیں کرسکا،اعتراضات مسترد ای میلز کے ذریعے خط و کتابت ثالثی معاہدے کا ثبوت بن سکتی:تحریری فیصلہ

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے پاکستانی ٹیکسٹائل کمپنی کے خلاف غیر ملکی کمپنی کے حق میں دیا گیا ثالثی ایوارڈ قابلِ عمل قرار دے دیا۔ جسٹس خالد اسحاق نے 16 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ، جسٹس خالد اسحاق نے غیر ملکی کمپنی ایکوم ایگرو انڈسٹریل کارپوریشن کے حق میں ثالثی ایوارڈ تسلیم کرتے ہوئے غازی فیبرکس انٹرنیشنل کے تمام اعتراضات مسترد  کر دئیے اور ایوارڈ کو عدالتی ڈگری کے طور پر نافذ کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس خالد اسحاق نے قرار دیا کہ فریقین کے درمیان ای میلز کے ذریعے ہونے والی خط و کتابت بھی تحریری ثالثی معاہدے کا ثبوت بن سکتی ہے، اور معاہدے پر باضابطہ دستخط نہ ہونے کے باوجود ای میلز میں معاہدے کی تصدیق اور ذمہ داری کا اعتراف قانونی اہمیت رکھتا ہے ۔ جسٹس خالد اسحاق نے فیصلے میں کہا کہ اگر کوئی فریق ثالثی کارروائی کے دوران متعلقہ اعتراضات نہ اٹھائے تو بعد میں نفاذ کے مرحلے پر انہی بنیادوں پر فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ثالثی ٹربیونل کے سامنے خاموش رہنے والا فریق بعد ازاں بنیادی اعتراضات پیش کرنے کا حق محدود کر دیتا ہے ۔لاہور ہائیکورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ غیر ملکی ثالثی ایوارڈز کے نفاذ میں عدالتیں کم سے کم مداخلت کریں گی اور نیویارک کنونشن کے تحت نافذ شدہ اصولوں کو برقرار رکھا جائے گا۔ فیصلے کے مطابق درآمدی پابندیوں اور ایل سیز نہ کھلنے کا مؤقف کمپنی کو معاہدہ پورا نہ کرنے کی ذمہ داری سے بری نہیں کر سکا۔ جبکہ درخواست کو عملدرآمد کی کارروائی میں تبدیل کرتے ہوئے کیس 28 ستمبر 2026ء تک ملتوی کر دیا گیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں