پابندیوں میں نرمی سے پاک ایران تجارت 10ارب ڈالر تک جاسکتی
عالمی پابندیاں،سفارتی دباؤ معاشی تعاون کی راہ میں بدستور سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ایران پاکستانی چاول، پھل، سبزیوں، ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمد میں دلچسپی رکھتا تجارت، توانائی میں تعاون پاکستانی معیشت کیلئے انتہائی سودمند ثابت ہو سکتا،رپورٹ
کراچی (محمدحمزہ گیلانی)پاکستان ایران کے درمیان تجارتی تعلقات، توانائی کے شعبے میں تعاون اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق ملکی مالیاتی اداروں نے ایک نئی اسٹرٹیجک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اگر بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی آتی ہے اور دونوں ممالک سرحدی اقتصادی تعاون کو فروغ دیتے ہیں تو دوطرفہ تجارت کا حجم موجودہ نہایت محدود سطح سے بڑھ کر 10 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جبکہ پاکستان کو تیل، اسٹیل اور دیگر درآمدی شعبوں میں سالانہ کروڑوں ڈالر کی بچت بھی حاصل ہو سکتی ہے ، تاہم رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیوں، جیو پولیٹیکل صورتحال اور قطر کے ساتھ طویل المدتی ایل این جی معاہدے کے باعث پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر آئندہ چند برسوں تک پیشرفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ تجارتی راستے بحال ہونے کی صورت میں پاکستان کو خام تیل کی درآمد پر نمایاں مالی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق ایران پاکستانی چاول، پھل، سبزیوں اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمد میں بھی دلچسپی رکھتا ہے جبکہ ایران نے مجموعی گوشت کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد پاکستان سے حاصل کرنے کی خواہش کاارادہ بھی کیا ہے ، جس سے پاکستانی زرعی اور لائیو اسٹاک شعبے کے لیے نئی برآمدی منڈیاں کھل سکتی ہیں۔ رپورٹ میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے ۔ دستاویز کے مطابق تقریباً 2 ہزار 775 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ، جسے امن پائپ لائن بھی کہا جاتا ہے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے امریکی پابندیوں اور ممکنہ اقتصادی نتائج کے خدشات کے باعث تعطل کا شکار ہے ۔ رپورٹ میں مجموعی طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت اور توانائی کے شعبے میں تعاون پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو سکتا ہے ، جس سے درآمدی اخراجات میں نمایاں کمی، برآمدات میں اضافہ اور توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں، تاہم موجودہ عالمی پابندیاں، علاقائی سیاسی صورتحال اور بین الاقوامی سفارتی دباؤ اس معاشی تعاون کی راہ میں بدستور سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔