تتمہ بیان قانون میں نہیں، پولیس نے خود نظام بنایا ایڈیشنل آئی جی کا ہائیکورٹ میں اعتراف
لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق ندیم نے مقدمہ قتل کے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیاہے کہ پولیس کے تفتیشی نظام، تتمہ بیان اور باوثوق ذرائع کی بنیاد پر کارروائی کے طریقہ کار پر اہم سوالات اٹھائے گئے۔
سماعت کے دوران عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب شہزادہ سلطان نے نہ صرف پولیس نظام کی خامیوں کا اعتراف کیا بلکہ یہ بھی تسلیم کیا کہ قانون میں تتمہ بیان کا کوئی تصور موجود نہیں، تتمہ بیان اور باوثوق ذرائع کی بنیاد پر کارروائی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں لیکن بدقسمتی سے ہم سب یہ کام کر رہے ہیں ، ہم نے اپنی بے ایمانی اور رشوت کو تحفظ دینے کیلئے تتمہ بیان کا تصور خود بنا رکھا ہے ، اسی کو استعمال کرکے ناجائز اقدامات کئے جاتے ہیں، پولیس اختیارات کا ناجائز استعمال کرتی رہی ہے جو نہیں ہونا چاہیے ، پولیس والوں نے کھانے پینے کیلئے یہ پورا سسٹم بنا رکھا ہے ، میں مانتا ہوں پولیس میں بہت سی خامیاں ہیں اور ان خامیوں کے ہم سب ذمہ دار ہیں ۔قبل ازیں لاہورہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق ندیم نے ملزم عمر فاروق کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
عدالتی حکم پر ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان اور ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کامران عامر خان ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نوید عمر بھٹی اور شیخ محمد آصف عدالت میں پیش ہوئے ۔ جسٹس محمد طارق ندیم نے ایڈیشنل آئی جی سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے مقدمے کا ریکارڈ دیکھا ہے ؟ ، جس ضمنی بیان (سپلیمنٹری اسٹیٹمنٹ)کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ فائل میں موجود ہی نہیں حالانکہ ڈی پی او عدالت کو یقین دلاتے رہے کہ وہ ریکارڈ کا حصہ ہے ،اگر مقدمہ کسی تحریری درخواست پر درج ہو جائے تو پھر اس کے بعد "سپلیمنٹری اسٹیٹمنٹ" کا قانونی تصور کیا ہے ؟ ،ملزم ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھا بلکہ بعد ازاں یہ لکھ دیا گیا کہ مدعی نے کسی مخبر کے کہنے پر اسے نامزد کیا۔
اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان کے غیر معمولی اعترافات پر جسٹس محمد طارق ندیم نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی تو ایسا افسر ہے جو پولیس کی اپنی غلطیاں تسلیم کر رہا ہے ، فائل میں تتمہ بیان کے علاوہ سب کچھ موجود ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے اسے جان بوجھ کر غائب کیا گیا۔ اس پر ایڈیشنل آئی جی نے بھی کہا کہ اس میں پولیس اہلکاروں کی بے ایمانی ہو سکتی ہے ۔ جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیے کہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ قتل جیسے سنگین مقدمے میں بھی کسی نامعلوم مخبر کی اطلاع پر کارروائی کی گئی جبکہ اس مبینہ مخبر کا نام پورے ریکارڈ میں کہیں موجود نہیں۔
عدالت نے ڈی پی او منڈی بہاؤالدین پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بارہا بتایا گیا کہ فائل میں تتمہ بیان موجود نہیں مگر وہ اپنے ماتحت افسر وں کا دفاع کرتے رہے ، جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کو طلب کرنا پڑا۔ عدالت نے ایک اور ملزم علی حسن کا معاملہ بھی اٹھایا جسے تقریباً دس ماہ قبل مقدمے میں شامل کیا گیا تھا مگر اس عرصے میں اس کے خلاف کوئی مو ثر کارروائی کی گئی نہ ہی گرفتاری کے وارنٹ حاصل کئے گئے ۔ ایڈیشنل آئی جی نے تسلیم کیا کہ ریکارڈ کے مطابق ایسی کارروائی نہیں ہوئی، صرف دوسرے ملزم کے بیان کی بنیاد پر کسی شخص کو ملزم بنانا قانونی طور پر درست نہیں۔ عدالت نے مدعی مقدمہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ علی حسن کو مقدمے میں ملوث کرنے کا کوئی قانونی ثبوت پیش کیا جائے تاہم وہ عدالت کو مطمئن نہ کر سکے ۔تمام دلائل سننے اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس کے ملزم عمر فاروق کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments