ایران امریکا روابط بحالی میں پاکستان ہی معاون بن سکتا
غیر جانبدار سفارتی رویہ برقرار رکھنے ، اعتماد قائم کرنے پرہی کامیابی کا انحصار
(تجزیہ:سلمان غنی)
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے عمل نے عالمی و علاقائی امن کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جس کے نتیجہ میں تشویش کی لہر ہر سطح پر محسوس کی جا رہی ہے ،کیا خطے کے ممالک اس جنگ کے اثرات سے بچ پائیں گے فی الحال تو ایسا نظر نہیں آ رہا ۔ امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کے عمل نے مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں بہت خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے ایم او یو عملاً ختم ہوا نظر آ رہا ہے ۔اگر امریکا نے ایران کیخلاف کارروائیوں کا سلسلہ وسیع کیا اور زمینی فوجیں داخل کر دیں تو پھر یہ جنگ خلیج فارس تک محدود نہیں رہے گی ،پاکستان دوست ممالک سے رابطے کر کے مذکورہ صورتحال اور اس کے نتائج سے بچنے کے لئے پھر سے کوششوں کا آغاز کئے ہوئے ہے ، دوست ممالک کی مشاورت سے ایک مرتبہ پھر سے ثالثی عمل شروع ہے ۔
اگرچہ مفاہمتی یادداشت ختم ہو چکی ہے لیکن پاکستان کی سفارتی کوششوں کا جواز ختم نہیں ہوا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ معاہدہ کے خاتمہ کے بعد پاکستان کا کردار اور اہم ہو گیا ہے اور پاکستان اب معاہدہ کروانے کی بجائے تباہی کو روکنے اور مستقبل کے دروازے کھلے رکھنے کی بنا پر اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے ۔ موجودہ صورتحال میں فوری جنگ بندی کا امکان تو نظر نہیں آتا تاہم حالات بدل رہے ہیں۔عملاً دیکھنے میں آ رہا ہے کہ صدر ٹرمپ بار بار وعدہ خلافی کے مرتکب ہو رہے ہیں پہلے انہوں نے مذاکراتی عمل کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا اور پھر 28فروری کو امریکا اور اسرائیل کا ایران پر حملہ ہے جسے ایران بھولنے کو تیار نہیں جس کے ذریعے ایران کے رہبر آیت اﷲعلی خامنہ آئی شہید ہوئے تھے اور پھر پاکستان سمیت دیگر ملکوں نے مل کر امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی معاہدہ کرایا اس پر عمل درآمد کے لئے 60روز کا شیڈول تیار کیا گیا لیکن ابھی معاہدہ کو ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا کہ ٹرمپ نے دوبارہ ایران پر حملہ کر دیا اور ایران پر زیادہ سخت حملوں کی دھمکی دی گزشتہ ایک ہفتے سے امریکا کے ایران پر حملوں سے ایران کا مالی و جانی نقصان ہوا لیکن ان حملوں سے خود امریکا بے نقاب ہوا اور ان حملوں نے ثابت کیا کہ صدر ٹرمپ کے وعدوں پر یقین نہیں کیا جا سکتا ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ ان پر طاری نفسیاتی کیفیت ہے ، وہ ایران کے ہاتھوں پیش آنے والی صورتحال میں امریکا کی جگ ہنسائی سے نکلنا چاہتے ہیں اس لئے کہ انہیں نومبر میں مڈٹرم انتخابات کا سامنا ہے ۔امریکا ایران کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکا ہے مگر عملاً تاثر یہ قائم ہے کہ امریکی صدر شکست کھا چکے ہیں ۔اب ایران پر حملوں کے بعد کہا جا رہا ہے کہ امریکا اپنی زمینی افواج لائے گا تو اطلاعات یہ ہیں کہ ایران نے پہلے ہی اس کی تیاری کر رکھی ہے اور وہ زمینی افواج کے منتظر ہیں یہ ہوا تو جنگ بھی خلیج فارس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا مشرق وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا کیونکہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی قبائل بھی حرکت میں آئے ہیں انہوں نے سعودی عرب پر بھی حملے شروع کر دئیے ہیں، ایران نے امریکا کے تازہ حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کر کے مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس سے تیل اور گیس کی سپلائی بند کر دی ہے مذکورہ صورتحال کے اثرات سے فریقین تو نمٹیں گے ہی لیکن اس کے مضر اثرات سے دنیا نہیں بچ پائے گی ۔آج بھی پاکستان ہی امریکا ایران رابطوں کو آسان بنانے میں معاون بن سکتا ہے پاکستان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ غیر جانبدار سفارتی رویہ برقرار رکھے اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم رکھے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments