ٹیلی کام شعبے میں انضمام سے مسابقت متاثر ،قائمہ کمیٹی کو تشویش

 ٹیلی کام شعبے میں انضمام سے مسابقت متاثر ،قائمہ کمیٹی کو تشویش

کیو آر کوڈ سے بلا معاوضہ 10مرتبہ ای سم منتقل کرنے کانظام تیارکر لیا:پی ٹی اے صارف دوست پالیسی ،فائیو جی سروسز بہتر بنانے کی ہدایت،سی ایس ایس کوٹہ کا جائزہ

اسلام آباد (سید قیصر شاہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکر ٹر یٹ کا اجلاس سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت ہوا، جس میں ای سم منتقلی، فائیو جی سروس، موبائل نیٹ ورک، شاہراہوں پر کوریج، بائیومیٹرک تصدیق کے متبادل نظام اور سی ایس ایس کوٹہ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ پی ٹی اے نے بتایا کہ مختلف کمپنیوں کی الگ پالیسیوں کے خاتمے کے لئے یکساں نظام تیار کیا جا رہا ہے ، جس کے تحت صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے بلا معاوضہ 10 مرتبہ ای سم ایک ڈیوائس سے دوسری میں منتقل کر سکیں گے۔

کمیٹی نے ٹیلی کام شعبے میں انضمام سے مسابقت متاثر ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پی ٹی اے کو صارف دوست پالیسی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ پی ٹی اے کے مطابق ملک میں 499 فائیو جی سائٹس نصب ہو چکی ہیں اور رواں سال کے آخر تک بڑے شہروں میں نمایاں کوریج دستیاب ہوگی، تقریباً ایک کروڑ 56 لاکھ فائیو جی سے مطابقت رکھنے والے موبائل فون زیر استعمال ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ دو برس میں سروس کے معیار کی خلاف ورزی پر ٹیلی کام کمپنیوں کو مجموعی طور پر 4 ارب 30 کروڑ روپے جرمانے کئے گئے ۔ شاہراہوں اور پسماندہ علاقوں میں کوریج بہتر بنانے ، مکران کوسٹل ہائی وے پر نیشنل رومنگ، موٹرویز پر اسی نظام کے نفاذ اور غیر خدمات یافتہ علاقوں میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی بریفنگ دی گئی۔

بائیومیٹرک تصدیق ناکام ہونے کی صورت میں ریٹینا اسکین اور فیس ریکگنیشن جیسے متبادل طریقہ کار متعارف کرانے کی بھی ہدایت کی گئی، اوگرا کو سمارٹ گیس میٹرنگ کے فروغ اور صارفین کے تحفظ کے لئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ،کمیٹی کا اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، کابینہ ڈویژن پی ٹی اے ، اوگرا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، ٹیلی کام کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ،کمیٹی نے سابقہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے ہوئے اوگرا سے بریفنگ لی ، اوگرا نے بتایا کہ مبینہ گیس لیکیج کی بنیاد پر گیس میٹر اتارنے سے متعلق مسئلہ حل کر لیا گیا ،چیئرمین کمیٹی نے ایس این جی پی ایل میں انتظامی خامیوں کو دور کرنے کی بھی ہدایت کی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...