پہلی بارش، سیوریج لائن بیٹھنے کے باعث جوہرٹاؤن کی سڑک میں شکاف
گزشتہ مالی سال تقریباً 2 ارب روپے کی لاگت سے نئی سیوریج لائن بچھائی گئی ، پرانی مکمل بند نہ کی جا سکی مین بلیوارڈ جوہر ٹاؤن پر زیرِ زمین پرانی سیوریج لائن دوبارہ بیٹھ گئی، مزید شگاف پڑنے کا خدشہ بدستور برقرار
لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور میں مون سون کی پہلی موسلا دھار بارش نے شہر کے زیرِ زمین سیوریج انفراسٹرکچر کی کمزوریاں ایک بار پھر بے نقاب کر دیں،مین بلیوارڈ جوہر ٹاؤن پر پرانی سیوریج لائن دو مختلف مقامات سے بیٹھنے کے باعث سڑک میں شگاف پڑ گئے جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ۔حیران کن امر یہ ہے کہ گزشتہ مالی سال تقریباً 2 ارب روپے کی لاگت سے نئی سیوریج لائن بچھائی گئی مگر پرانی لائن مکمل طور پر بند نہ کی جا سکی۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں مون سون کی پہلی موسلا دھار بارش کے بعد شہر کی اہم شاہراہ مین بلیوارڈ جوہر ٹاؤن ایک بار پھر سیوریج لائن بیٹھنے کے باعث متاثر ہو گئی،20 جولائی کو شہر میں اوسطاً چالیس ملی میٹر سے زائد جبکہ جوہر ٹاؤن میں 50 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی جس کے بعد شادیوال چوک سے شوکت خانم فلائی اوور جانے والی سڑک پر دو مختلف مقامات پر شگاف پڑگئے ،متاثرہ مقامات پر زیرِ زمین موجود پرانی سیوریج لائن دوبارہ بیٹھ گئی، جس کے نتیجے میں سڑک کا ڈھانچہ متاثر ہوا اور حفاظتی اقدامات کے طور پر ٹریفک کو محدود کرنا پڑا۔
اسی سیوریج لائن پر گزشتہ کئی برسوں کے دوران 20 سے زائد مرتبہ شگاف پڑنے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں ،تاہم مسئلے کا مستقل حل تاحال سامنے نہیں آ سکا۔گزشتہ مالی سال مین بلیوارڈ جوہر ٹاؤن پر تقریباً 2 ارب روپے کی لاگت سے نئی سیوریج لائن بچھائی گئی لیکن نئی لائن فعال ہونے کے باوجود پرانی بوسیدہ لائن کو مکمل بند نہ کیا گیا، نتیجتاً مون سون کی پہلی ہی شدید بارش کے دوران پرانی لائن دوبارہ متاثر ہوگئی اور سڑک دو مقامات سے بیٹھ گئی۔واقعے کے بعد واسا نے متاثرہ حصوں میں عارضی بنیادوں پر مٹی بھر کر اور سیمنٹ کے ذریعے مرمت کا کام کیااور حفاظتی بیریئر لگا کر متاثرہ لینز کو محدود کر دیا تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے ۔ادھر مین بلیوارڈ جوہر ٹاؤن پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑے ۔ متعلقہ حکام کے مطابق متاثرہ مقامات کی نگرانی جاری ہے ، تاہم پرانی سیوریج لائن مکمل طور پر بند نہ ہونے کے باعث مزید شگاف پڑنے کا خدشہ بدستور موجود ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments