نئے بااختیار انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا، ڈاکٹر فاروق ستار
جشن آزادی کے فوری بعد عوامی تحریک اور ریفرنڈم مہم کا باضابطہ آغاز کریں گے حکومت یرغمالیوں کے خاندانوں کی دادرسی کرے ،تاجر وں،متاثرین کے اہلخانہ سے گفتگو
کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد پر سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار سے کراچی کی تاجر برادری اور کراچی بزنس فورم کے نمائندہ وفد نے ایک اہم ملاقات کی، جس میں مرکزی شعبہ بزنس کے اراکین اور سینیٹر خالدہ طیب، اراکین اسمبلی نگہت شکیل اور مسرت جبین نے بھی خصوصی شرکت کی۔ ملاقات کے دوران تاجر برادری نے کراچی کی تجارتی شاہراہوں بالخصوص صدر اور دیگر مرکزی مارکیٹوں میں گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، زائد بجلی بلوں اور اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں کی تباہی پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ لاء اینڈ آرڈر کی ابتر صورتحال، تاجروں کو درپیش سکیورٹی خدشات اور خصوصاً تاجر رہنما میر رضا کے کیس و انتظامی تحفظات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے تاجروں کے مطالبات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے اور اس معاشی حب کو مفلوج کرنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کراچی میں نئے بااختیار انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس سے شہر کو انتظامی سپردگی ملے گی، یہاں بسنے والی تمام قومیتوں، برادریوں کو ان کے حقوق اور معاشی فائدے براہ راست حاصل ہوں گے ۔
اجلاس کے اختتام پر تاجر برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا جبکہ ایم کیو ایم کی قیادت نے عزم دہرایا کہ تاجروں کے حقوق اور سکیورٹی کے لیے ہر ایوان اور سڑک پر مؤثر آواز بلند کی جائے گی۔ دوسری جانب مرکزی دفتر بہادر آباد میں ڈاکٹر فاروق ستار نے صومالی قزاقوں کی تحویل میں یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کے متاثرہ اہل خانہ سے ملاقات کی، جس میں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن قانونی، اخلاقی اور مالی تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 10 پاکستانی شہری 111 دنوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، ہم وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے اپیل کرتے ہیں فوری نوٹس لے کر مظلوم خاندانوں کی دادرسی کریں۔
اگر وفاقی حکومت یا صومالی حکومت تاوان کا بندوبست نہیں کرتی تو ایم کیو ایم پاکستان کراچی کی تاجر برادری، صنعتکاروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر انسانیت کی بنیاد پر تاوان کی رقم خود جمع کرے گی۔ اس موقع پر فاروق ستار نے میر رضا کے پراسرار قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو روزگار دینے والے نوجوان کے قتل کیس کو معمہ بنایا جا رہا ہے اور پولیس کی مشکوک تفتیش کیس کا رخ موڑنے کی کوشش ہے ، اصل قاتلوں کی گرفتاری کے لیے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے کہا ایم کیو ایم پاکستان جشن آزادی کے فوراً بعد نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کے لیے ایک عظیم الشان عوامی تحریک اور آئین کے آرٹیکل 48 کلاز 6 کے تحت ریفرنڈم کی مہم کا باضابطہ آغاز کرنے جارہی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments