فارماسیوٹیکل شعبے نے پچھلے سال 523ارب کمائے :احسن اقبال
2035تک100ارب ڈالربرآمدات کاقومی ہدف، فارماسیوٹیکل صنعت کرداراداکرے برآمدی حکمت عملی میں عالمی ضابطہ جاتی تقاضوں،معیار کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہئے
اسلام آباد(اے پی پی)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے فارماسیوٹیکل شعبے کو مسابقتی، جدت پر مبنی اور عالمی سطح پر برآمدات پر مرکوز صنعت میں تبدیل کرنے کے لیے ترجیحات، اصلاحات اور حکومتی معاونت کی ضروریات کی نشاندہی کے لیے ایک ماہ کی صنعت گیر مشاورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فارماسیوٹیکل صنعت کو 2035 تک 100 ارب ڈالر سے زائد برآمدات کے قومی ہدف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرنا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے فارماسیوٹیکل صنعت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ گول میز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بھی اجلاس میں شرکت کی،وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ شعبے کو مالی سال 2025 میں 457 ملین ڈالر کی ریکارڈ برآمدات، جو 20 سال کی بلند ترین سطح ہے ، کی بنیاد پر مزید ترقی کرنی چاہئے ،احسن اقبال نے کہا کہ مجوزہ مشاورت میں صنعت، تعلیمی اداروں اور تحقیقی اداروں کو شامل کیا جانا چاہئے اور اس کے نتیجے میں 2030 اور اس کے بعد کے عرصے کے لیے درمیانی اور طویل مدتی واضح روڈ میپ تیار کیا جانا چاہئے ،انہوں نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اگلے 10 سال میں پاکستان کو دنیا کا فارماسیوٹیکل مرکز بنا سکتے ہیں؟۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملکی اور بین الاقوامی ویلیو چینز میں موجود خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی منڈیوں میں میڈ اِن پاکستان معیار اور اعتماد کی علامت بن سکے ،فارماسیوٹیکل شعبے نے مالی سال 2025 میں 523 ارب روپے کی آمدن حاصل کی جو 19.4 فیصد اضافہ کو ظاہر کرتی ہے جبکہ اس وقت صنعت میں 662 مینوفیکچررز موجود ہیں،وفاقی وزیر نے زور دیا کہ برآمدی حکمت عملی میں بین الاقوامی ضابطہ جاتی تقاضوں اور معیار کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہئے ، پاکستان کو اس وقت عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے لیول 2 کے 52 ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments