بندر گاہوں پر سامان کلئیرنس میں تاخیر ، درآمد کنند گان و برآمد کنند گان پر نئے جرمانے عائد : یکم اکتوبر سے نفاذ

 بندر گاہوں پر سامان کلئیرنس میں تاخیر ، درآمد کنند گان و برآمد کنند گان پر نئے جرمانے عائد : یکم اکتوبر سے نفاذ

سامان کی آمد کے 20 دن میں دستاویز جمع نہ کرانے پر پہلے پانچ دن روزانہ 25 ہزار ، بعدازاں 50 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا متاثرہ شخص متعلقہ چیف کلیکٹر کے سامنے متعلقہ اتھارٹی کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے 15 دن کے اندر اپیل بھی دائر کرسکے گا ایف بی آر قواعد کے تحت درآمدی سامان کی تاخیر اور بندرگاہوں پر کارگو کے طویل قیام کو روکنے کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں

اسلام آباد (مدثر علی رانا) ایف بی آر نے درآمدی و برآمدی مال کی غیرضروری تاخیر اور کسٹمز سٹیشنز پر کارگو کلیئر نہ کرنے کی صورت میں درآمدکنندگان اور برآمد نندگان پر نئے قواعد اور جرمانے عائد کردیئے ہیں۔ اوور اسٹے کارگو پر جرمانوں کا نیا نظام یکم اکتوبر 2026 سے نافذ ہوگا۔ایف بی آر نے بندرگاہوں پر درآمدی و برآمدی مال کی غیرضروری تاخیر اور کسٹمز سٹیشنز پر کارگو کے قیام کو روکنے کیلئے نئے قواعد اور جرمانے عائد کیے ہیں۔ ایف بی آر نے نوٹیفکیشنز کے ذریعے کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت تاخیر سے متعلق جرمانوں کی نئی شرحیں مقرر کی ہیں جبکہ دوسرے نوٹیفکیشن کے ذریعے کسٹمز رولز 2001 میں نئی شق ‘‘اوور اسٹے کارگو مینجمنٹ رولز 2026’’ شامل کی گئی ہے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق کسٹمز سٹیشن پر سامان پہنچنے کے بعد ہوم کنزمپشن، ویئرہاؤسنگ یا ٹرانس شپمنٹ کیلئے گڈز ڈیکلیریشن مقررہ مدت میں جمع نہ کرانے پر جرمانہ عائد ہوگا۔سامان کی کسٹمز سٹیشن آمد کے 20 دن کے اندر گڈز ڈیکلریشن جمع نہ کرانے کی صورت میں پہلے پانچ اضافی دنوں کیلئے روزانہ 25 ہزار روپے جرمانہ ہوگا جبکہ اس کے بعد ہر اضافی دن کیلئے روزانہ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

تاہم ہر کیس میں مجموعی جرمانہ 10 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہوگا۔جہاز کی برتھنگ سے قبل گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے لیکن سامان نہ اٹھانے پر بھی جرمانہ عائد ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق جہاز کی برتھنگ سے قبل گڈز ڈیکلیریشن جمع کراکے واجب الادا ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرنے اور اسیسمنٹ مکمل ہونے کے باوجود مقررہ مدت میں سامان کسٹمز سٹیشن سے نہ نکالنے پر اسیسمنٹ اور جہاز کی برتھنگ مکمل ہونے کے بعد اگلے پانچ دنوں کیلئے روزانہ 15 ہزار روپے جرمانہ ہوگا جبکہ اس کے بعد ہر دن کیلئے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس صورت میں بھی زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 لاکھ روپے ہوگا۔اگر گڈز ڈیکلیریشن جہاز کی برتھنگ کے بعد جمع کرائی گئی ہو تو گڈز ڈیکلریشن کلیئر ہونے کے بعد سامان کو ہوم کنزمپشن، ویئرہاؤسنگ یا ٹرانس شپمنٹ کیلئے پانچ دن کے اندر کسٹمز سٹیشن سے نکالنا ہوگا۔ پانچ دن کے بعد تاخیر کی صورت میں اگلے پانچ دنوں کیلئے روزانہ 10 ہزار روپے جبکہ اس کے بعد ہر اضافی دن کیلئے روزانہ 20 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ مجموعی جرمانہ 10 لاکھ روپے فی کیس سے زیادہ نہیں ہوگا۔

ایف بی آر نے برآمدکنندگان کیلئے بھی واضح مدت مقرر کردی ہے ۔ بندرگاہ میں داخل ہونے کے بعد برآمدی مال کو متعلقہ جہاز یا دوسری شپمنٹ میں 15 دن کے اندر لوڈ کرنا ہوگا۔ مقررہ مدت میں سامان لوڈ نہ کرنے کی صورت میں اگلے پانچ دنوں کیلئے روزانہ 5 ہزار روپے جبکہ اس کے بعد ہر دن کیلئے 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کیس میں بھی زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 لاکھ روپے فی کیس مقرر کیا گیا۔ایف بی آر کے نئے اوور اسٹے کارگو مینجمنٹ رولز 2026 کے تحت جرمانوں کے نفاذ کیلئے دستی طریقہ کار کے بجائے کمپیوٹرائزڈ نظام استعمال کیا جائے گا۔ مقررہ مدت میں جرمانے کی رقم جمع کرانا ہوگی جس کے بعد سامان کے مالک یا اس کے مجاز ایجنٹ کو الیکٹرانک نوٹس جاری کیا جائے گا جس میں قابلِ ادائیگی جرمانے کی رقم درج ہوگی۔نئے نظام کے تحت درآمدکنندہ یا اس کا مجاز کلیئرنگ ایجنٹ کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں مقررہ جرمانہ قبول کرکے ادائیگی کرسکے گا جبکہ جرمانے کو چیلنج کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔

نوٹس کو چیلنج کرنے کی صورت میں معاملہ متعلقہ کلیکٹر یا قانون کے تحت مجاز افسر کو بھیج دیا جائے گا جسے پانچ ورکنگ دنوں کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔متعلقہ اتھارٹی جرمانے کا نوٹس ختم کردیتی ہے تو کمپیوٹرائزڈ سسٹم گڈز ڈیکلیریشن فائل کرنے کی اجازت دے گا اور قابلِ ادائیگی جرمانہ بھی ختم کردیا جائے گا۔ نوٹس برقرار رہنے کی صورت میں اتھارٹی کی جانب سے طے کردہ جرمانہ وی بوک (WeBOC) کے ذریعے وصول کیا جائے گا۔متاثرہ درآمدکنندہ یا برآمدکنندہ متعلقہ چیف کلیکٹر کے سامنے متعلقہ اتھارٹی کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے 15 دن کے اندر اپیل بھی دائر کرسکے گا۔اوور اسٹے کارگو مینجمنٹ رولز 2026 لینڈ کسٹمز سٹیشنز اور ایئرپورٹس پر لاگو نہیں ہوں گے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایف بی آر کے نئے اقدامات کا بنیادی مقصد درآمدی سامان کی کلیئرنس میں غیرضروری تاخیر، بندرگاہوں پر کارگو کے طویل قیام اور برآمدی سامان کی بروقت لوڈنگ میں رکاوٹوں کو کم کرنا ہے ۔ نئے نظام کے تحت جرمانوں کا خودکار تعین، الیکٹرانک نوٹس، آن لائن ادائیگی اور مقررہ مدت میں اعتراض و اپیل کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...