قتل کیس میں دیت کی رقم کتنی، تعین کیسے کیا جائیگا؟ سپریم کورٹ
دیت وقوعہ، گرفتاری یا سزا کے وقت مقرر کی جائیگی؟ جسٹس ہاشم، اپیل پر فیصلہ محفوظ سابق اہلیہ کو نکاح ختم کرنے کی عدالتی ڈگری پر قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر، اے پی پی)سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کے تعین کے حوالے سے اہم قانونی سوالات پر مجرم ندیم خان کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ دیت کی رقم کے تعین کیلئے متعلقہ قانونی اصول واضح کرنا ضروری ہے ۔ تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ دیت کی رقم وقوعہ، ملزم کی گرفتاری یا سزا کے وقت مقرر کی جائے گی؟ پراسیکیوٹر کے پی ارشد حسین نے بتایا کہ دیت کی رقم کے تعین سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے ، اس وقت دیت کی رقم تقریباً ایک کروڑ 97لاکھ روپے ہے ۔ عدالت نے تمام متعلقہ پراسیکیوٹرز کو دیت کی رقم کے تعین سے متعلق تحریری معروضات جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ خاتون کا قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے نکاح ختم کرانے کا فیصلہ اس کا قانونی حق ہے ، اس حق کے استعمال پر تشدد آئینی نظام کی روح کے منافی ہے ۔ عدالت نے سابق اہلیہ کو نکاح ختم کرنے کی عدالتی ڈگری ملنے کے صرف دو روز بعد قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے جیل پٹیشن مسترد کردی۔ عدالت نے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ ملزم وسیم عباس نے اپنی سابق اہلیہ شہناز بی بی کو سفاکانہ اور منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا۔ مقدمے میں سزائے موت میں کمی کیلئے کوئی تخفیفی یا نرم کرنے والا پہلو موجود نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments