عمران خان سے 84 ملاقاتیں ،39 بار طبی معائنہ : سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

 عمران خان سے 84 ملاقاتیں ،39 بار طبی معائنہ : سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ  جیل کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

کھانے پینے اور صحت کی دن میں تین مرتبہ جانچ ،معالجین کی مزید ملاقاتیں کرانے ، ٹی وی اور اخبارات فراہم کرنیکی سفارش ملاقاتوں میں اداروں کیخلاف عوامی جذبات ابھارنے کی کوشش کی گئی، پابندی کے باوجودوکیل میڈیا سے گفتگوکرتے رہے :رپورٹ

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت، طبی معائنے اور جیل میں ملاقاتوں سے متعلق دو صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کی جیل رولز کے تحت ہر منگل کو باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور اب تک 84 ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے کھانے پینے اور صحت کی دن میں تین مرتبہ جانچ کی جاتی ہے جبکہ متعدد سرکاری معالجین ان کا طبی معائنہ کر چکے ہیں اور اس کا ریکارڈ بھی موجود ہے ۔ ماہر امراض چشم سے بھی ان کی آنکھ کا علاج کرایا جاتا رہا ہے ، جس کے مطابق ایک آنکھ تقریباً نارمل ہو چکی ہے ۔اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک بانی پی ٹی آئی کے 39 مختلف طبی ماہرین سے کرائے گئے معائنوں کی سمری بھی شامل کی گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق یکم اگست کو کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر اختر علی بندیشہ نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا۔

اس موقع پر انہوں نے بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، سر درد اور بے چینی کی شکایت کی۔ ای سی جی میں کوئی اہم غیر معمولی تبدیلی سامنے نہیں آئی جبکہ بلڈ پریشر 140/100 اور نبض 50 فی منٹ ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ نے ذہنی دباؤ کم کرنے کیلئے عمران خان کو اہلیہ سے زیادہ ملاقاتوں، اخبارات اور ٹی وی کی سہولت فراہم کرنے کی سفارش کی۔ عمر اور ذہنی دباؤ کے پیش نظر سی ٹی کورونری انجیوگرافی کرانے اور بلڈ پریشر کی ادویات میں اضافہ یا تبدیلی کی بھی سفارش کی گئی۔ 10 اگست کو چار رکنی میڈیکل بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کا دوبارہ طبی معائنہ کیا۔ انہوں نے سینے میں درد، بھاری پن، سانس پھولنے یا دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کی شکایت نہیں کی، ای سی جی نارمل جبکہ ایکو میں دل کے والوز اور چیمبرز بھی نارمل قرار دئیے گئے ۔چار رکنی میڈیکل بورڈ نے سفارش کی کہ عمران خان کو روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی کی اجازت دی جائے اور موجودہ جیل صورتحال میں انہیں ذہنی سکون فراہم کیا جائے ۔ بورڈ نے اخبارات، ٹی وی اور کتابیں فراہم کرنے کے علاوہ اہلخانہ سے زیادہ ملاقاتوں کو بے چینی اور بلڈ پریشر پر قابو پانے میں معاون قرار دیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو مزید کسی کارڈیک ٹیسٹ بالخصوص سی ٹی انجیوگرافی کی ضرورت نہیں۔

جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وکیل سلمان صفدر نے بھی 10 فروری اور 4 اپریل کو عمران خان سے ملاقات کی۔ رپورٹ کے مطابق جیل میں ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، خارجہ پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوامی جذبات ابھارنے کی کوشش کی گئی۔رپورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے مقدمہ پنجاب حکومت بنام شیر افضل میں جیل رولز 265 کو خلافِ قانون قرار دئیے جانے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔ ہائیکورٹ کے فیصلے میں سلمان اکرم راجہ کی جانب سے عدالت کو دی گئی اس یقین دہانی کا بھی ذکر ہے کہ وہ ملاقات کے بعد جیل کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے ۔ رپورٹ کے مطابق عدالتی حکم کے باوجود میڈیا سے گفتگو کی گئی جو اس کی خلاف ورزی تھی۔اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ توہین عدالت کا معاملہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں بنچ پہلے ہی نمٹا چکا ہے اور سماعت کے دوران کسی نے اس معاملے پر اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔ رپورٹ میں سپریم کورٹ سے مقدمہ نمٹانے کی استدعا کی گئی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...