عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم : ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل ، ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ کو بھی میڈیکل بورڈ سے منسلک رہنے کی اجازت ، صحت پر سیاست کی گئی تو سہولت واپس لی جاسکتی ہے : سپریم کورٹ

 عمران خان کو شفا  ہسپتال منتقل کرنے کا حکم : ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل ، ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ کو بھی میڈیکل بورڈ سے منسلک رہنے کی اجازت ، صحت پر سیاست کی گئی تو سہولت واپس لی جاسکتی ہے : سپریم کورٹ

عمران خان کی نبض نارمل نہ ہی دل،میڈیکل رپورٹ ذہنی اضطراب کا شکار قرار دے رہی ،فیملی کی ہرہفتے ملاقات ،ہفتے میں دودن بیٹوں سے بات کرائیں ، مقدمات کی تفصیل پیش کی جائے :عدالت قانون کی خلاف ورزی پرملاقات نہیں ہوگی:ایڈووکیٹ جنرل، اگر وہ خلاف ورزی کر رہے تو آپ بھی کر ینگے ؟ ملاقات احسان نہیں ،بنیادی حق :تحریری حکم نامہ جاری ،سماعت 16ستمبر تک ملتوی

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر،اے پی پی، مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو 2روز میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کرنے ، مکمل طبی معائنہ کرانے کا حکم دے دیا،عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ عمران خان کے ساتھ انکی فیملی کی ہرہفتے ملاقات کروائی جائے اور ہفتے میں 2دن بیٹوں سے بات بھی کروائی جائے ۔سپریم کورٹ نے عمران خان کے چیک اپ کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی اور بانی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی انکے طبی معائنے اور علاج کے عمل سے منسلک رہنے کی اجازت دے دی،عدالت نے خبردار بھی کیا کہ صحت پر سیاست کی گئی تو سہولت واپس لی جا سکتی ہے ۔جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس ادتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی ،درخواست گزار کے وکیل عذیر بھنڈاری نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام انہیں بانی کی میڈیکل ، طبی معائنے اور ٹیسٹوں کی رپورٹس اور علاج کی تفصیلات فراہم نہیں کر رہے ، حکومتی مؤقف تھا کہ سینٹرل جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ نے طبی علاج اور چیک اپ سے متعلق تفصیلات عدالت میں جمع کرائی ہیں۔

تاہم سپریم کورٹ نے حکومتی مؤقف سے اتفاق نہیں کیا، سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا گیا کہ پیش کی گئی دستاویز محض عمران خان کی بیماریوں اور علاج کی سمری ہے ، مکمل طبی ریکارڈ نہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کوئی قانونی رکاوٹ موجود ہے جو حکومت کو بانی اور انکے اہلِ خانہ کو میڈیکل ٹیسٹ رپورٹس، نسخے ، معائنے کی رپورٹس، علاج کی تفصیلات اور متعلقہ ڈاکٹروں کی آرا فراہم کرنے سے روکتی ہو؟ ایڈووکیٹ جنرل نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ ایسی کوئی قانونی پابندی نہیں،عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ عمران خان کا گرفتاری سے ابتک کا مکمل طبی ریکارڈ پیش کیا جائے ، تمام ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل جمع کرایا جائے ، عدالت نے قرار دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال کی پیش کردہ سمری بادی النظر میں انکی صحت میں خرابی کی نشاندہی کرتی ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق بانی کو زیادہ باقاعدگی سے اہلِ خانہ سے ملاقات اور مطالعے کے مواد تک رسائی کی ضرورت ہے ، سپریم کورٹ نے حکومت اور افسروں کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال انتظامیہ سے مشاورت اور رابطے کے ذریعے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔

تحریری حکم کے مطابق میڈیکل بورڈ میں جنرل سرجن ، جنرل فزیشن، آئی سپیشلسٹ ،کارڈیالوجسٹ، میڈیسن سپیشلسٹ کو شامل کیا جائے ،ہسپتال میں علاج اور فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے ضروری اخراجات بانی یا انکے اہلِ خانہ برداشت کرینگے ، عدالت نے واضح کیا کہ عمران خان یا ان سے کسی بھی حیثیت میں وابستہ شخص انکی طبی رپورٹس یا صحت سے متعلق معلومات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کرے گا ، شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی حدود میں کوئی عوامی اجتماع نہ ہو،عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ عمران خان کے ہسپتال میں قیام کے دوران مناسب سکیورٹی انتظامات کئے جائیں ، سپریم کورٹ نے عمران خان اور انکے اہلِ خانہ کے درمیان ہفتے میں ایک مرتبہ ملاقات کرانے کی سہولت فراہم کرنے ،بانی کو بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت دینے کی ہدایت کی، جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بہنوں کی ملاقات پرحکومت کا کیا مؤقف ہے ؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی، جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ بھی کرینگے ؟ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دئیے کہ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے ، ریاست کا کام نہیں کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرے ، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ تین سال میں بانی کی بہنوں سے 48 ملاقاتیں کرائی گئیں۔

سپریم کورٹ نے بانی کی تین سال میں اہلِ خانہ اور وکلا سے تمام ملاقاتوں کی تفصیلات طلب کرلیں، عدالت نے بچوں سے فون پر بات کرانے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا، وکیل عذیر بھنڈاری نے ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو بانی سے ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی، جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا گارنٹی ہے کہ باہر آکر میڈیا ٹاک نہیں ہوگی؟وکیل نے جواب دیا کہ وہ ڈاکٹر عظمیٰ کے وکیل ہیں اور انکی ہدایات پریقین دہانی کرا رہے ہیں ۔ دوبارہ سماعت شروع ہونے پر جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی کی کس بہن کی ملاقات ہونی چاہیے ؟ عذیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان چونکہ ڈاکٹر ہیں، اس لیے انکی ملاقات کرائی جائے ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری نہیں ہوا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ حکومت کا مؤقف بھی دیکھ لیا جائے گا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ ڈاکٹر عظمیٰ والے کیس میں پیش نہیں ہوئے ۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا، آپ نے یہ بات صبح کیوں نہیں کی؟ جسٹس شاہد وحید نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ریمارکس دئیے ، آپ اسلام آباد کے سینئر ترین لا افسر ہیں، ایسے نہ کریں۔ جسٹس شاہد وحید نے عمران خان کے خلاف مقدمات اور سزاؤں بارے بھی استفسار کیا اور پوچھا کہ عمران خان کتنے مقدمات میں سزا یافتہ ہیں؟ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ بانی کیخلاف ان تمام مقدمات کی تفصیلات پیش کی جائیں جن میں وہ ملزم، گرفتار، زیرِ سماعت مقدمات میں فریق یا سزا یافتہ ہیں۔

عدالت نے میڈیکل رپورٹس کا حوالہ دیتے یہ بھی ریمارکس دئیے کہ رپورٹ بانی کو ذہنی اضطراب کا شکار قرار دے رہی ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بانی کی طبی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا ، عدالت نے قرار دیا کہ درخواست کے قابلِ سماعت ہونے اور دیگر حکومتی اعتراضات کا فیصلہ آئندہ سماعت پر کیا جائے گا ،عدالت نے قرار دیا کہ یہ تمام انتظامات فریقین کے حقوق اور مؤقف کو متاثر کیے بغیر عبوری بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں، جسٹس شاہد وحید نے بانی کا تمام میڈیکل ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل جمع کرانے کی ہدایت کرتے ریمارکس دئیے کہ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو خفیہ نہیں رہے گا ،دوران سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا آپکی رپورٹ میں لکھا ہے کہ انجیوگرافی کرانی ہے ، کیا جیل میں انجیوگرافی ہو سکتی ہے ؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ باہر ہسپتال سے ہوسکتی ہے ،جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بانی کی نہ نبض نارمل ہے ، نہ ہی دل، میڈیکل رپورٹس کے مطابق انکے وائیٹل آرگنز متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ جسٹس نعیم اختر نے ریمارکس دئیے کہ پی ٹی آئی کو بانی کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے ،انہیں ایک چیز طے کرلینی چاہیے کہ بانی کی طبی حالت پر کوئی سیاست نہیں ہوگی ، بعدازاں عدالت نے سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے بانی پی ٹی آئی کا علاج نجی ہسپتال سے کرانے کے حکم پر سپریم کورٹ میں نظر ثانی  درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سزا یافتہ قیدیوں کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں ہوتا ہے ، بانی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق حکم کا جائزہ لیا گیا ہے ، عدالتی حکم کے کچھ نکات کا تعلق جیل اتھارٹی اور اسلام آباد انتظامیہ سے متعلق ہے ، اتھارٹیز کی تجویز ہے کہ نظر ثانی کے ذریعے اس حکم کی مناسب موڈیفکیشن کی درخواست کی جائے تاکہ بانی کا کسی سرکاری ہسپتال سے طبی معائنہ کرایا جائے ، بورڈ یہ فیصلہ کرے گا کہ جیل میں علاج ہوگا یا باہر ہسپتال لے جایا جائے گا، بورڈ علاج کے لیے جیل سے باہر منتقل کرے تو سرکاری ہسپتال لے جایا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ آیا یہ حکم تمام جیلوں کے قیدیوں کے لیے ہوگا یا نہیں؟ لیگل ٹیم نے مشاورت کی ہے اور ابہام کو دور کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا جارہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...