صوبہ دو آرٹیکل 140 خود نافذ کرلینگے :ایم کیو ایم
ہجرت کرکے قائد کے پاکستان آئے ،ہمیں بھٹو کے پاکستان میں دھکیل دیا:خالد مقبول نئے صوبوں کیلئے ریفرنڈم کرایا جائے :فاروق ستار،مفتاح اسماعیل ودیگر کا مذاکرہ سے خطاب
کراچی(سٹاف رپورٹر،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہم ہجرت کر کے قائد اعظم کے پاکستان میں آئے تھے ، ہمیں بھٹو کے پاکستان میں دھکیل دیا گیا ہے ۔کراچی میں گریجویٹ فورم پاکستان کے تحت قومی مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ دھرتی ماں صرف پاکستان ہے ، صوبے صرف اور صرف انتظامی یونٹس ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت موجودہ صوبے لسانی بنیاد پر قائم ہیں لیکن ایم کیو ایم انتظامی بنیاد پر صوبوں کا مطالبہ کرتی ہے اور پورے ملک میں جہاں کہیں بھی نئے صوبوں کے مطالبات اٹھ رہے ہیں ان میں سب سے مضبوط اور باجواز مقدمہ شہری سندھ کا ہے جس نے پاکستان کی معیشت کا بوجھ اٹھا رکھا ہے ۔انہوں نے کہا سندھ کے شہری علاقوں کا سب سے زیادہ استحصال ہوا ہے ، اے پی ایم ایس او کے منشور میں صوبے کا ذکر تھا اور اب وہ پورے ملک کی آواز ہے۔
نیز سندھ میں اگر ایمانداری کے ساتھ شفاف مردم شماری کرا لی جائے اور ووٹر لسٹوں کی درستی کر دی جائے تو پیپلز پارٹی خود نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ ایم کیو ایم کا پہلا مطالبہ ہے پورے ملک میں آبادی کے لحاظ سے صوبے بننے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا آپ ہمیں ہمارا صوبہ دے دیں آرٹیکل 140 اے ہم خود نافذ کرلیں گے ، ہمیں سندھ اسمبلی میں سندھو دیش کے خلاف قرارداد نہیں لانے دی گئی، آج صوبے کیوں ہونے چاہئیں اس کے لیے لمبی دلیل دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ڈاکٹر فاروق ستار نے خطاب میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے عوامی ریفرنڈم کی تجویز دی۔انہوں نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ چاروں صوبوں پر چند خاندانوں کا راج اور اسٹیٹس کو برقرار ہے ، آج ہمیں تسلیم کرنا ہوگا ہم معاشی، سیاسی اور شراکتی طور پر خودمختار نہیں ہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد خودمختار صوبوں سے بہتری کی توقع تھی، تاہم ایسا نہ ہوسکا۔
ان کا کہنا تھا ایم کیو ایم پاکستان نے آئینی ترمیمی بل جمع کرا دیا ہے ، جس میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات تفصیل سے طے کیے جائیں گے ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا دور ہے اور دنیا بہت آگے جا چکی ہے ، لیکن ہم آج تک ایک مؤثر نظام نافذ نہیں کرسکے اور اسی پر بحث جاری ہے ۔انہوں نے تجویز دی کہ سندھ کے ڈویژنز کو شمالی، وسطی، جنوبی، مغربی اور مشرقی سندھ میں تقسیم کیا جائے جبکہ کراچی کو خصوصی سندھ کا درجہ دیا جائے ، سندھ کے شہروں اور دیہات کو براہ راست اختیارات اور وسائل ملنے چاہئیں۔انہوں نے کہا مارشل لا کے ادوار میں بھی مقامی حکومتیں قائم ہوئیں، لیکن جب بھی جمہوری حکومتیں آئیں انہوں نے مقامی حکومتوں کا نظام ختم کردیا، آئین کے آرٹیکل 239(4) کو وڈیروں اور جاگیرداروں نے جان بوجھ کر رکھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پارلیمان آئین اور قانون سازی کرتی ہے تو صوبوں کو بلاجواز یہ اختیار کیوں دیا گیا؟ کسی سیاسی جماعت کے منشور میں صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کا واضح ذکر نہیں۔فاروق ستار نے کہا آرٹیکل 48 کی شق 6 کے تحت عوام کی رائے معلوم کی جائے ، انہیں یقین ہے لاڑکانہ سمیت سندھ کے دیگر علاقوں کے عوام نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کریں گے۔
انہوں نے نئے صوبوں کے حق میں شارع فیصل پر مشترکہ ریلی نکالنے کی تجویز دیتے ہوئے کہاکہ یہ پاکستان کی بقا، سلامتی اور خوشحالی کا سوال ہے ، پورے ملک میں یا ان علاقوں میں جہاں نئے صوبوں کا مطالبہ موجود ہے ، عوامی ریفرنڈم کرایا جائے ۔ فاروق ستار کا کہنا تھا یہ جو ریڈ لائن ہے یہ بظاہر سندھ صوبے میں تو نہیں بنے گی لگتا یہی ہے کہ یہ اب کراچی صوبے میں بنے گی۔ایم کیو ایم کے سینئر رہنما و سابق میئر کراچی وسیم اختر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی مقامی حکومتوں اور نئے صوبوں کے لیے ایک طویل جدوجہد ہے اور ہم نے سپریم کورٹ سے بااختیار بلدیات کا کیس بھی جیتا، یہ معاملہ سیاسی نہیں بلکہ ہماری بقاء اور انفرادی و اجتماعی ترقی کا ضامن ہے ۔ رکن قومی اسمبلی جاوید حنیف نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں ہمارا بل اسٹینڈنگ کمیٹی میں موجود ہے اور کراچی کے ڈیموگرافک مسائل اور انتظام و انصرام کے حل کے لیے الگ انتظامی حیثیت ناگزیر ہے ۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ موجودہ طرزِ حکمرانی میں صوبے مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے میں ناکام رہے ہیں اس لیے کراچی اور دیگر تمام بڑے شہروں کا انتظام مقامی لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے ۔ قومی مذاکرے سے سینئر سیاستدان عرفان اللہ مروت ،کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف، تاجر رہنما عتیق میر اور سابق بیوروکریٹ بیرسٹر شہاب امام نے بھی خطاب کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments