ایران جنگ ،امریکی فتح کا دعویٰ زمینی حقائق کے برعکس

 ایران جنگ ،امریکی فتح کا دعویٰ زمینی حقائق کے برعکس

دونوں ممالک میں کشیدگی کے باعث پاکستان بھی پٹرولیم بحران سے دوچار

(تجزیہ:سلمان غنی)

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا کو پہنچنے والے شدید معاشی و عسکری نقصان کے اعتراف کو بڑی سیاسی اور تلخ حقیقت کے طور پر دیکھنا چاہئے جسکے مطابق اس آپریشن ‘‘فیوری’’پر امریکا کو 33.4 بلین ڈالرز کا نقصان ہوا ۔جسکا واضح مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے ملک پر غالب آنے اور اسے شکست دینے کا انحصار جدید جنگی سازو سامان اہلیت اور سپر پاور ہونے میں نہیں بلکہ کسی  ایسی حکمت عملی سے مشروط ہے جس سے کم طاقت کے استعمال کے ذریعہ اپنی جنگی اہداف کئے جا سکیں لیکن امریکہ ایران جنگ کا جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ امریکا ایران سے کہیں زیادہ طاقتور ضرور مگر جنگ کی قیمت سے محفوظ نہیں اور امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود آج بھی ایران اپنی سلامتی خود مختاری بارے ثابت قدم نظر آ رہا ہے اور امریکا شدید معاشی بحران سے دوچار اپنی ساکھ کے بحران سے پریشان ہے۔

ٹرمپ جو ایران سے اپنی شرائط پر صلح کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں جواباً ایرانی لیڈر شپ قطعاً پسپائی پر آمادہ نظر نہیں آتی اور انکا کہنا ہے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر عملدرآمد تک امریکا سے مذاکرات نہیں ہو سکتے لہٰذا جائزہ ضروری ہے کہ امریکی محکمہ دفاع اپنے معاشی و عسکری نقصان کے اعتراف پر کیونکر مجبور ہوا جبکہ نئی پیدا شدہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول اہم ہے ، اگر ہرمز متاثر رہتا ہے تو تیل اور گیس کی قیمتیں امریکا سمیت پوری عالمی معیشت پر اثر انداز ہوں گی،واشنگٹن کیلئے جنگ کو طویل رکھنا ہر آنے والے دن میں مشکل بن رہا ہے ۔عالمی امور کے ماہرین کہتے نظر آ رہے کہ اب حالات اس نہج پر آ گئے ہیں کہ واشنگٹن میں جنگ جیتنے اور جنگ کی قیمت کو الگ الگ دیکھا جانے لگا ہے ، پاکستان کیلئے یہ صورتحال اسلئے اہم ہے کہ خلیج میں تیل کی قیمتیں ترسیلات اور عالمی تجارت براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

اسلئے پاکستان جنگ کی بجائے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کیلئے سرگرم ہے لیکن اگر جنگ طویل علاقائی اور توانائی بحران میں تبدیل ہوتی ہے تو ساری دنیا کو اسکی قیمت چکانا پڑے گی اور اب امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین بھی کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ایران کو فوجی طریقہ سے زیر کرنا ممکن۔ جہاں تک اس صورتحال کے پاکستان پر اثرات کا سوال ہے تو وہ آج بھی پٹرولیم بحران سے دوچار ہے تواسکی وجہ یہی خلیجی بحران ہے اور اگر امریکا ایران جنگ جاری رہتی ہے تو پاکستان کیلئے بھی اسکے اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع کی جانب سے اپنی معاشی و عسکری نقصان کے اعتراف کے ساتھ صدر ٹرمپ کا آنے والا یہ بیان اہم ہے کہ ایران امریکا سے معاہدہ چاہتا ہے لیکن جواب میں ایرانی سپریم لیڈر سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کا ردعمل اہم ہے جو واضح موقف اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں کہ اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کی شرائط پوری ہونے تک امریکاسے بات چیت نہیں ہوگی لہٰذا فی الحال کہا جا سکتا ہے کہ دنیا پر جنگ کے مضر اثرات کے باوجود دونوں اپنی ضد پر قائم ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...